ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق تحفظ مراکز کے ذریعے 45 ہزار 954 خواتین، 42 ہزار 181 بچوں اور 14 ہزار 388 ٹرانسجینڈرز کو تحفظ، قانونی معاونت اور بحالی کی سہولیات فراہم کی گئیں۔ صرف لاہور میں قائم تحفظ مراکز پر 10 ہزار سے زائد افراد کو مدد فراہم کی گئی۔
ترجمان نے بتایا کہ لاہور میں 3 جب کہ پنجاب بھر میں مجموعی طور پر 38 تحفظ مراکز روزانہ کی بنیاد پر معاشرے کے کمزور اور محروم طبقات کو سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔ ان مراکز پر 42 ٹرانسجینڈرز بطور وکٹم سپورٹ آفیسرز خدمات انجام دے رہے ہیں۔
پنجاب پولیس کے میثاق سنٹرز کی کارکردگی رپورٹ 2025۔۔۔ pic.twitter.com/kezuIgp8wd
— Government of Punjab (@GovtofPunjabPK) December 26, 2025
آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کا کہنا ہے کہ تحفظ مراکز ٹرانسجینڈرز اور معاشرے کے دیگر کمزور طبقات کی مدد اور بحالی کا ایک مؤثر ذریعہ ہیں۔ ٹرانسجینڈرز وکٹم سپورٹ آفیسرز اپنی کمیونٹی کے افراد کو ترجیحی بنیادوں پر سماجی اور قانونی تحفظ فراہم کر رہے ہیں۔
آئی جی پنجاب کے مطابق صنفی جرائم، سماجی عدم تحفظ، استحصال اور تشدد کا شکار افراد کی مدد کے لیے آؤٹ ریچ پروگرامز میں مزید بہتری لائی جا رہی ہے، جب کہ ٹرانسجینڈرز، خواتین اور بچوں سے متعلق مسائل پر متاثرین کو فوری ریلیف فراہم کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ الائیڈ اداروں اور فلاحی تنظیموں کے تعاون سے محروم طبقات کی مشکلات کے ازالے کے لیے مؤثر اقدامات جاری ہیں۔







