لاہور میں مقامی تعلیمی ادارے کی طالبات سے خطاب کرتے ہوئے سید ذوالفقار حسین نے کہا کہ بسنت فیسٹیول سے 20 ارب روپے سے زائد کی کاروباری سرگرمیاں متوقع ہیں، جن میں سیاحت، ہوٹل انڈسٹری، ٹرانسپورٹ، دھاگہ و کاغذ، خوراک اور دیگر تجارتی شعبے شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بسنت اب ایک تہوار ہی نہیں بلکہ ایک مکمل صنعت بن چکی ہے، جس سے ہزاروں افراد کا روزگار وابستہ ہے۔
سید ذوالفقار حسین نے بسنت کی اجازت دینے پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کو کریڈٹ دیتے ہوئے کہا کہ ان کی قیادت میں پنجاب حکومت نے بسنت کے انعقاد کی اجازت دی، تاہم یہ اجازت پورے پنجاب کے بجائے صرف لاہور شہر تک محدود ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ کے مطابق پنجاب میں تقریباً 56 لاکھ موٹر سائیکلیں رجسٹرڈ ہیں، جب کہ لاہور شہر میں تقریباً 7 لاکھ موٹر سائیکلیں غیر رجسٹرڈ ہیں، جس کے باعث حفاظتی اقدامات پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
سابق آرگنائزر لاہور بسنت فیسٹیول کا کہنا تھا کہ پنجاب ریگولیشن آف کائٹ فلائنگ آرڈیننس 2025 کے تحت بسنت کے لیے نئے قواعد و ضوابط وضع کیے گئے ہیں، جن کے مطابق لاہور کے شہری 6، 7 اور 8 فروری 2026 کو پتنگ بازی کے ساتھ بسنت منا سکیں گے۔
انہوں نے کہا کہ نوجوان گڈا تاوا، ڈھیر تاوا اور 9 پلائی تاروں کے ساتھ دور پینہ استعمال کر سکیں گے، جب کہ پتنگیں اور ڈور یکم فروری سے فروخت کے لیے دستیاب ہوں گی اور 8 فروری کے بعد تمام گڈی اور ڈور ختم کرنا لازمی ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور مین ہول سانحہ میں بیوی اور بچے کو کھونے والے شوہر نے ایک کروڑ روپے لینے سے انکار کیوں کردیا؟
سید ذوالفقار حسین نے کہا ہے کہ بسنت منانا لاہور شہر کی ثقافت کو زندہ رکھنے، عوام کو ذہنی دباؤ سے نکالنے اور عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت (سافٹ) امیج اجاگر کرنے کے لیے نہایت ضروری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آخری بسنت 2007 میں تقریباً پانچ لاکھ افراد نے منائی تھی، جب کہ بسنت 2026 کو بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں سمیت تقریباً 80 لاکھ افراد منائیں گے۔
سید ذوالفقار حسین نے زور دیا کہ انسانی جان سب سے قیمتی ہے، اس لیے والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچوں کو پتنگ بازی کے محفوظ طریقے سکھائیں تاکہ بسنت کو خوشی اور ذمہ داری کے ساتھ منایا جا سکے۔
خیال رہے کہ یہ آگاہی پروگرام انگلش لٹریری سوسائٹی کے زیر اہتمام نفسیات ڈیپارٹمنٹ، سوشل ورک اور ڈرگ ایڈوائزری ٹریننگ حب لاہور کے تعاون سے منعقد کیا گیا، جس میں بسنت کے تاریخی پس منظر اور محفوظ طریقے سے پتنگ بازی کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی گئی۔







