سینیٹ اجلاس چیئرمین یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بل کو حتمی منظوری کے لیے ایوان میں پیش کیا، جب کہ حکومت دو تہائی اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب رہی اور پی ٹی آئی کے سینیٹر سیف اللہ ابڑو اور جے یو آئی کے احمد خان نے ترمیم کے حق میں ووٹ دیا۔
شق دو دو تہائی اکثریت سے منظور ہوئی، تاہم اپوزیشن کی جانب سے شور شرابہ اور ہنگامہ آرائی کی گئی۔ شق تین کے حق میں 64، جب کہ مخالفت میں ایک ووٹ آیا، شق تین بھی دو تہائی اکثریت سے منظور ہوئی۔
کلاز چار اور کلاز فائیو منظور کرلیے گئے۔ کلاز 6 بھی دو تہائی اکثریت سے منظور ہوا۔ کلاز 7 کے حق میں 64 ووٹ آئے، مخالفت میں کوئی ووٹ نہ آیا۔ کلاز 8، 9، 10، 11، 12، 13، 14 اور 15 تمام دو تہائی اکثریت سے منظور ہوئے۔
چیئرمین سینیٹ نے ڈویژن کے بعد نتیجہ کا اعلان کیا اور آئینی ترمیمی بل کی منظوری کا اعلان کیا۔ اس سے قبل ایوان بالا نے 27ویں آئینی ترمیم کی تمام 59 شقوں کی منظوری دی۔
آرٹیکل 42 کے تحت وفاقی آئینی عدالت کے قیام کی ترمیم منظور کر لی گئی۔ آرٹیکل 63 اے میں لفظ "سپریم" کی جگہ "وفاقی آئینی عدالت" کرنے کی ترمیم منظور کی گئی۔
آرٹیکل 68 میں پارلیمانی بحث کے حوالے سے وفاقی آئینی عدالت کا ذکر شامل کرنے کی ترمیم منظور ہوئی۔ آرٹیکل 78 میں ترمیم کے تحت متعلقہ پیراگراف میں وفاقی آئینی عدالت کا ذکر شامل کرنے کی ترمیم منظور کر لی گئی۔
آرٹیکل 81 میں ترمیم کے مطابق دونوں پیراگراف میں آئینی عدالت کا اضافہ کرنے کی ترمیم منظور کی گئی۔ اسلام آباد میں ایوان نے آئینی عدالت کو 7 ججز پر مشتمل کرنے کی ترمیم بھی منظور کر لی۔
سینیٹ سے آئینی بل کی منظوری پر ردِعمل دیتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ 27ویں ترمیم کی منظوری پر سینیٹرز کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، میثاقِ جمہوریت میں آئینی عدالت کا قیام شامل تھا۔
واضح رہے کہ سینیٹر حامد خان نے اجلاس سے واک آؤٹ کیا۔ انہوں نے کہا کہ سیف اللہ ابڑو ایسا شخص نہیں تھا، مجھے افسوس ہوا کہ اس نے ترمیم کی حمایت میں ووٹ دیا۔ یہ ترمیم آئین اور جمہوریت کے منافی ہے۔







