پارلیمنٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ پی ٹی آئی پرامن احتجاج پر یقین رکھتی ہے اور اختلاف رائے اور احتجاج جمہوریت کا حسن ہے۔
انہوں نے کہا کہ کون فرنٹ لائن پر ہوگا، یہ عمران خان ڈیوٹی لگاتے ہیں، میں وہی ڈیوٹی نبھاتا ہوں جو خان صاحب کہتے ہیں، ایک ملاقات ہی کرا دیں۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہم نے پورے پاکستان سے اپیل کی ہے کہ ہمارے ساتھ کھڑے ہوں، ہم تاتاری نہیں ہیں، اسلام آباد فتح کرنے نہیں آرہے، حق مانگنے آرہے ہیں۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کے احتجاج سے متعلق فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے وفاقی حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ 27 ستمبر کی مارچ ہوگی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے اپنے مختصر فیصلے میں قرار دیا تھا کہ کسی سیاسی جماعت یا عوامی عہدے پر فائز شخص کے پاس اسلام آباد کی سڑکیں بند کرنے کا اختیار نہیں۔
عدالت نے صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کو ہدایت کی کہ سرکاری مشینری کو سیاسی جماعت کے احتجاج میں استعمال نہ ہونے دیا جائے اور کسی سرکاری ملازم کو احتجاج میں شرکت پر مجبور نہ کیا جائے۔
پی ٹی آئی نے بانی چیئرمین عمران خان کی رہائی اور ’آئین کی بالادستی‘ کے لیے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔
بیرسٹر گوہر نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کے 700 کارکنان اور سپورٹرز گرفتار ہیں جب کہ ایک ہزار افراد کے خلاف فہرستیں بنائی گئی ہیں جو منظر سے غائب ہیں اور ان کے خاندان مشکلات کا شکار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پارٹی کے قومی اور صوبائی اسمبلی کے ارکان کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے ہیں اور پولیس ان کے پیچھے پڑی ہوئی ہے۔
پی ٹی آئی چیئرمین نے دعویٰ کیا کہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے متعدد ارکان قومی اسمبلی، جن میں اسامہ میلا، مبین جٹ، نثار جٹ اور جمال حسن سمیت دیگر شامل ہیں، کے گھروں پر چھاپے مارے گئے اور پولیس وہاں موجود ہے۔ انہوں نے محمود الرشید کے خاندان کے ساتھ مبینہ سلوک کی بھی مذمت کی۔
واضح رہے کہ محمود الرشید کی صاحبزادی مریم کلثوم اکرم نے ایکس پر ایک پوسٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ پولیس نے ان کے والد کے گھر پر چھاپہ مارا، تقریباً 25 نقاب پوش اہلکار گھر میں داخل ہوئے، توڑ پھوڑ کی اور اس دوران ان کی والدہ زخمی ہوئیں۔
بیرسٹر گوہر نے سوال کیا کہ کیا عمران خان اور بشریٰ بی بی کا علاج کرانے کی اپیل کرنا جرم ہے؟ پی ٹی آئی کا مطالبہ ہے کہ عمران خان کے مقدمات کی سماعت کی جائے اور انصاف کے مطابق فیصلے کیے جائیں۔
مزید پڑھیں: ’پہلے میری عوام جائے گی، پھر میں‘؛ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا لاہور میں روٹ بندش پر احتجاج
ان کا کہنا تھا کہ پارٹی نے سپریم کورٹ، ہائی کورٹس اور آئینی عدالت سمیت ہر فورم کا دروازہ کھٹکھٹایا، لیکن کہیں شنوائی نہیں ہوئی۔ اسی سینیٹ اور قومی اسمبلی میں بھی ان کی آواز دبائی گئی، تو کیا اب وہ سڑکوں پر آکر اپنی آواز نہیں اٹھا سکتے؟
پی ٹی آئی چیئرمین نے وفاقی حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ 27 ستمبر کا مارچ ہوگا۔ ماضی میں حکومت کی جانب سے بھی مارچ اور ملین مارچ کیے گئے، اس وقت پی ٹی آئی نے انہیں کنٹینر اور کھانا فراہم کرنے کی پیشکش کی تھی، لیکن اب ان کے ساتھ دہشت گردوں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے۔
بیرسٹر گوہر نے حکومت سے قانون کے دائرے میں رہنے، پی ٹی آئی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی کے خلاف مبینہ انتقامی کارروائیاں بند کرنے اور ملک کو متحد رکھنے کے لیے اقدامات کرنے کی اپیل کی۔







