چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ—جس میں جسٹس محمد شفیع صدیقی اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب شامل تھے—نے محمد حسن سلطان کی پٹیشن نمٹاتے ہوئے سندھ ہائیکورٹ کے 7 اکتوبر 2024 کے فیصلے کو برقرار رکھا۔

عدالتی فیصلے میں بتایا گیا کہ فریقین نے 2016 میں شادی کی تھی اور نکاح نامے کے مطابق شق 18 میں خاوند نے بیوی (مورِیل شاہ) کو بلا شرط حقِ طلاق تفویض کیا ہوا تھا۔

مزید پڑھیں: پنجاب بھر میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر سخت کریک ڈاؤن جاری، کتنے جرمانے ہوئے؟


عدالت کے مطابق مورِیل شاہ نے 3 جولائی 2023 کو دفعہ 7 (1) کے تحت طلاق کا نوٹس جاری کیا، تاہم 90 دن مکمل ہونے سے پہلے ہی 10 اگست 2023 کو کارروائی واپس لے لی، جس کے نتیجے میں یونین کونسل/آربیٹریشن کونسل نے طلاق کی کارروائی ختم کر دی۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ اگر شوہر بیوی کو غیر مشروط حقِ طلاق دے دے تو بیوی کو طلاق واپس لینے کا مکمل اختیار بھی حاصل ہوتا ہے۔

عدالت کے اہم مشاہدے نے طلاق کے عمل اور اس کی قانونی حیثیت کے حوالے سے ایک بار پھر دفعہ 7 کی اہمیت اور اس کے تقاضوں کو واضح کر دیا۔