مشترکہ اپیل میں انڈیا کے سابق کپتان سنیل گواسکر اور کپ دیو سمیت ایک درجن سے زائد سابق بین الاقوامی کپتانوں نے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا کہ عمران خان کو ان کے مقام و مرتبے کے مطابق سہولیات فراہم کی جائیں۔
منگل کو جاری بیان میں سابق کرکٹرز نے عمران خان کو کھیل کی تاریخ کے بہترین آل راؤنڈرز میں سے ایک قرار دیتے ہوئے ان کی صحت اور جیل میں حالات پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
واضح رہے کہ 73 سالہ عمران خان اگست 2023 سے زیر حراست ہیں۔ انہیں متعدد مقدمات میں سزائیں سنائی جا چکی ہیں، جنہیں وہ سیاسی انتقام قرار دیتے ہیں۔
ان کا مؤقف ہے کہ 2022 میں پارلیمانی ووٹ کے ذریعے اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد ان کے خلاف مقدمات قائم کیے گئے۔
گزشتہ ہفتے ان کے وکیل نے سپریم کورٹ کو آگاہ کیا کہ عمران خان کی دائیں آنکھ کی بینائی میں جیل کے دوران نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ تاہم پیر کو قائم میڈیکل بورڈ نے بتایا کہ علاج کے بعد سوجن کم ہو گئی ہے اور بینائی میں بہتری آئی ہے، جس سے صورتحال کے بارے میں ملے جلے اشارے سامنے آئے ہیں۔
انڈیا اور پاکستان کے درمیان طویل کشیدگی کے باوجود سنیل گواسکر اور کپل دیو نے کھیلوں کی رقابت کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اس اپیل پر دستخط کیے۔
بیان میں کہا گیا کہ کئی دستخط کنندگان نے عمران خان کے خلاف یا ان کے ساتھ کرکٹ کھیلی یا ان کی مہارت، شخصیت اور مسابقتی جذبے کو سراہا۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کی بینائی سے متعلق پروپیگنڈا بے بنیاد، علاج کی ہر سہولت فراہم کی جا رہی ہے: محسن نقوی
بیان میں کہا گیا کہ ہم بطور کرکٹر فیئر پلے، احترام اور کھیل کے جذبے پر یقین رکھتے ہیں۔ عمران خان جیسے عالمی اسپورٹس آئیکون اور سابق قومی رہنما کے ساتھ ان کے شایانِ شان سلوک ہونا چاہیے۔
دیگر دستخط کنندگان میں آسٹریلیا کے سابق کپتان گرج چیپل، ایلن بارڈر اور اسٹیو وارف کے علاوہ بلینڈا کلارک اور کم حواز شامل ہیں۔
عمران خان کا کرکٹ کیریئر پاکستان کی تاریخ کا سنہرا باب سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے 1971 سے 1992 کے درمیان 88 ٹیسٹ اور 175 ون ڈے میچز کھیلے اور 1992 میں پاکستان کو واحد ون ڈے ورلڈ کپ ٹائٹل جتوایا، جو آج بھی قومی یادداشت کا اہم حصہ ہے۔
خبر رساں ادارے کو گفتگو میں ان کے صاحبزادے قاسم خان نے کہا کہ فوری تشویش ان کے والد کی صحت ہے، تاہم اس سے بڑھ کر بنیادی انسانی حقوق، قانون کی بالادستی اور منصفانہ ٹرائل کا معاملہ بھی اہم ہے۔
دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ حکومت عمران خان کی صحت کو سیاسی رنگ نہیں دینا چاہتی۔ اگر ڈاکٹرز اسپتال میں داخلے کی سفارش کریں تو انہیں دو ہفتوں کے لیے بھی داخل کیا جا سکتا ہے، لیکن اگر طبی ماہرین ضرورت محسوس نہ کریں تو حکومت از خود فیصلہ نہیں کر سکتی۔
وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ عمران خان کو طبی سہولیات فراہم کی گئی ہیں، جن میں اسلام آباد کے پمز میں علاج بھی شامل ہے، جب کہ پارٹی قیادت کو باقاعدہ بریفنگ دی گئی ہے۔
کرکٹ کے عالمی ستاروں کی اس اپیل نے کھیل کی حدود سے باہر ایک بڑے سیاسی اور انسانی حقوق کے مباحثے کو جنم دیا ہے، جس میں فیئر پلے اور وقار جیسے اصولوں کو مرکزِ بحث بنایا جا رہا ہے۔







