اسلام آباد میں وفاقی وزرا کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ عالمی ریٹنگ ایجنسیاں پاکستان کے معاشی استحکام کو تسلیم کر رہی ہیں، جب کہ آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدہ بھی پاکستان کی معیشت پر اعتماد کا اظہار ہے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت نے میکرو اکنامک استحکام حاصل کرلیا ہے اور پالیسی ریٹ میں کمی کے معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں، ہمارا ہدف پائیدار معاشی استحکام کو یقینی بنانا ہے۔
پریس کانفرنس میں چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال نے بتایا کہ ایک سال میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی میں 1.49 فیصد اضافہ ہوا ہے، جب کہ ٹیکس ریٹرن فائلرز کی تعداد 49 لاکھ سے بڑھ کر 59 لاکھ ہوگئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مؤثر اقدامات کے باعث ٹیکس وصولیوں میں نمایاں اضافہ ہوا، وفاقی حکومت کا ہدف ہے کہ وفاق سے 15 اور صوبوں سے 3 فیصد ریونیو اکٹھا کیا جائے۔ صوبوں پر دباؤ کم ہے، جب کہ وفاقی سطح پر ریونیو بڑھانے کے لیے اقدامات تیز کیے گئے ہیں۔
چیئرمین ایف بی آر نے مزید کہا کہ ٹیکس اصلاحات وقت طلب عمل ہیں، تاہم بجٹ میں منظور شدہ اقدامات پر تیزی سے عمل جاری ہے۔ وزیراعظم ہفتہ وار بنیادوں پر ٹیکس اصلاحات کا جائزہ اجلاس خود چیئر کرتے ہیں اور ایف بی آر کو تمام اداروں کا تعاون حاصل ہے۔
پریس کانفرنس میں وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے بھی توانائی کے شعبے سے متعلق اہم اعداد و شمار پیش کیے۔ حکومت نے گزشتہ 18 ماہ میں بجلی کی قیمتوں میں ساڑھے 10 فیصد تک کمی کی ہے اور توانائی کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: گورنر کا عہدہ میری جاگیر نہیں، 8 سے 10 لوگوں کا نام زیرِ غور ہے اور فیصلہ پارٹی نے کرنا ہے: گورنر خیبرپختونخوا
اویس لغاری نے کہا کہ جہاں موقع ملا، عوام کو ریلیف دینے کی پوری کوشش کی گئی۔ آئی پی پیز سے متعلق ٹاسک فورس نے نمایاں پیش رفت کی ہے اور اب حکومت خود بجلی نہیں خریدے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ گردشی قرضے کم کرنے کے لیے مؤثر پلان تیار کیا گیا ہے، جس کے تحت ایک سال میں 700 ارب روپے کی کمی لائی گئی ہے۔ آٹو میٹرنگ سسٹم میں صارفین کو جلد پری پیڈ سہولت میسر ہوگی اور تکنیکی مسائل کے حل سے توانائی کے شعبے میں بڑی بچت حاصل ہوئی ہے۔







