ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر صحت نے 26 اگست کو پمز میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے کے چند ہی گھنٹوں بعد وزیراعظم کو تحریری طور پر اپنے استعفے سے آگاہ کردیا تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مصطفیٰ کمال نے سانحے کی سنگینی اور نومولود بچوں کی ہلاکت پر اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا، تاہم وزیراعظم شہباز شریف نے ان کا استعفیٰ منظور کرنے کے بجائے انہیں تحقیقات مکمل ہونے تک بطور وفاقی وزیر صحت کام جاری رکھنے کی ہدایت کی۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم کی جانب سے یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ سانحے کی اصل وجوہات اور ذمہ داری کا تعین انکوائری رپورٹ سامنے آنے کے بعد کیا جائے گا، اس لیے تحقیقات مکمل ہونے سے قبل وزیر صحت کے استعفے پر حتمی فیصلہ مناسب نہیں ہوگا۔
مصطفیٰ کمال کو یہ بھی ہدایت کی گئی کہ ان کے استعفے سے متعلق معاملے کو انکوائری مکمل ہونے تک منظر عام پر نہ لایا جائے۔
پمز کے مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ سینٹر میں آگ لگنے کے نتیجے میں نومولود بچوں کی ہلاکت کے بعد وفاقی وزیر صحت نے وزیراعظم آفس سے رابطہ کیا اور اپنے استعفے کی پیشکش کی۔
تحریری استعفیٰ وزیراعظم کو بھجوانے کے باوجود مصطفیٰ کمال نے وزارت کی ذمہ داریاں جاری رکھیں اور سانحے کی تحقیقات کے عمل میں حکومت کے مؤقف کی نمائندگی کرتے رہے۔
واقعے کے بعد حکومت کی جانب سے ذمہ داروں کے تعین اور غفلت کے مرتکب افسران کے خلاف کارروائی کے اعلانات کیے گئے تھے۔ اسی دوران وزارت صحت اور پمز کے انتظامی معاملات بھی حکومتی سطح پر زیر بحث رہے۔
تاہم ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر صحت نے خود عہدہ چھوڑنے کی خواہش ظاہر کی تھی، لیکن وزیراعظم نے انہیں تحقیقات کے نتائج تک کام جاری رکھنے کا کہا۔
مصطفیٰ کمال سے اس حوالے سے رابطہ کیا گیا اور ان سے پوچھا گیا کہ کیا انہوں نے پمز سانحے کے بعد وزیراعظم کو استعفیٰ پیش کیا تھا اور کیا وزیراعظم نے استعفیٰ قبول نہیں کیا۔
وفاقی وزیر صحت نے اس معاملے پر کیے گئے پیغامات کا جواب نہیں دیا۔
وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور وزیراعظم سے وابستہ اعلیٰ حکام سے بھی اس حوالے سے مؤقف جاننے کیلئے رابطہ کیا گیا، تاہم حکومتی حکام نے کہا کہ انہیں وفاقی وزیر صحت کی جانب سے ایسے کسی استعفے کے بارے میں معلومات نہیں ہیں۔
یوں مصطفیٰ کمال کے مبینہ استعفے اور وزیراعظم کی جانب سے اسے قبول نہ کیے جانے کی اطلاع فی الحال ذرائع سے سامنے آئی ہے، جبکہ حکومت کی جانب سے اس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔
پمز سانحے کے بعد وفاقی وزیر صحت متعدد مواقع پر واقعے کی شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کے تعین پر زور دے چکے ہیں۔
سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا تھا کہ ایسے افسوسناک واقعے کو چند روز تک خبروں میں رہنے کے بعد ختم ہونے والی ایک قسط نہیں بننے دیا جاسکتا۔
انہوں نے صحت کے شعبے میں اصلاحات کے ساتھ ساتھ ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کی ضرورت پر بھی زور دیا تھا۔
وفاقی وزیر کا مؤقف رہا ہے کہ اگر کسی سطح پر غفلت، کوتاہی یا انتظامی ناکامی ثابت ہوتی ہے تو ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔
پمز سانحے کے فوراً بعد حکومت نے وفاقی سیکریٹری صحت محمد اسلم غوری کے خلاف بھی کارروائی کی۔
حکومتی اقدامات کے تحت پمز کے انتظامی اور طبی نظام میں موجود خامیوں کا جائزہ لینے کیلئے انکوائری کا عمل شروع کیا گیا، جبکہ اسپتال کے متعدد اعلیٰ افسران کو بھی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے عبوری انکوائری رپورٹ موصول ہونے کے بعد پمز کے اعلیٰ حکام کے خلاف کارروائی کا حکم دیا۔
رپورٹ کی سفارشات کی روشنی میں پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر، چلڈرن اسپتال اور مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ سینٹر کے اعلیٰ حکام سمیت 8 افسران کو معطل کرنے کا حکم دیا گیا
عبوری رپورٹ میں کیا انکشاف ہوا؟
سانحے کی عبوری انکوائری رپورٹ میں اسپتال کی ایمرجنسی صورتحال سے نمٹنے کی تیاریوں میں متعدد سنگین خامیوں کی نشاندہی کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق نومولود بچوں کی نرسری میں آگ لگنے کی صورت میں فوری کارروائی اور بچوں کے محفوظ انخلاء کیلئے مناسب اور جامع طریقہ کار موجود نہیں تھا۔
ذرائع کے مطابق ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے انتظامات صرف کاغذی سطح تک محدود رہنے کے بجائے عملی طور پر بھی مؤثر ہونے چاہئیں تھے، تاہم انکوائری میں اس حوالے سے انتظامی اور حفاظتی خامیوں کی نشاندہی کی گئی۔
رپورٹ میں یہ بھی سفارش کی گئی کہ آگ لگنے کے درست مقام، اس کے ممکنہ سبب اور واقعے کے دیگر تکنیکی پہلوؤں کا تعین کرنے کیلئے مزید تفصیلی تکنیکی اور فرانزک تحقیقات کرائی جائیں۔
پمز کے مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ سینٹر میں آگ کے واقعے میں 14 نومولود بچوں کی ہلاکت نے اسپتالوں میں فائر سیفٹی، ایمرجنسی رسپانس، بجلی کے نظام، آتشزدگی سے بچاؤ اور مریضوں کے انخلاء کے انتظامات پر بھی کئی سوالات اٹھادیے ہیں۔
خصوصاً نومولود بچوں کے وارڈز میں ایمرجنسی کی صورت میں فوری انخلاء ایک انتہائی حساس معاملہ سمجھا جاتا ہے، کیونکہ ان بچوں کو عام مریضوں کی طرح خود سے منتقل نہیں کیا جاسکتا۔
اسی وجہ سے انکوائری کے دوران اس بات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے کہ واقعے کے وقت اسپتال کا ایمرجنسی رسپانس سسٹم کس حد تک فعال تھا، عملے







