نجی ٹی وی کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے علی پرویز ملک نے بتایا کہ پیٹرول کی قیمت میں اضافہ ایک ناگزیر فیصلہ تھا جس سے عوام پر یقیناً بوجھ پڑا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت ہے کہ اگر آئندہ قیمتوں میں مزید اضافہ ہوتا ہے تو کفایت شعاری کے اقدامات کے ذریعے اس کے اثرات کو قابو میں رکھا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ جب قیمتوں میں اضافہ کیا گیا اس وقت عالمی سطح پر ڈیزل کی قیمت تقریباً 150 ڈالر فی بیرل تھی، تاہم ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کے بعد عالمی منڈی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی دیکھنے میں آئی ہے، اس لیے امکان ہے کہ پیٹرول کی قیمت میں اب زیادہ ردوبدل نہ ہو۔

وزیر پیٹرولیم نے بتایا کہ پاکستان اپنی توانائی کی تقریباً 90 فیصد ضروریات درآمدات کے ذریعے پوری کرتا ہے اور ملک نے عالمی مالیاتی فنڈ کے ساتھ شراکت داری اور ذمہ دارانہ حکمت عملی کے ذریعے معاشی استحکام کی جانب پیش رفت کی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسحاق ڈار کی سربراہی میں قائم کمیٹی کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی کرے گی اور اس حوالے سے حکمت عملی مرتب کرے گی۔

علی پرویز ملک کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کسی بھی بڑے فیصلے سے پہلے صوبائی حکومتوں سے مشاورت کرتی ہے اور اس مرتبہ بھی تمام صوبائی وزرائے اعلیٰ سے مشاورت کے بعد قیمتوں میں ردوبدل کا فیصلہ کیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ ڈیزل کی قیمت میں تقریباً 80 روپے کا اضافہ ہوا تھا تاہم لیوی میں کمی کر کے اس اضافے کو محدود رکھا گیا۔

ان کے مطابق ملک کی آئل ریفائنریاں بنیادی طور پر خلیجی ممالک سے آنے والے خام تیل کو مدنظر رکھ کر قائم کی گئی ہیں۔ روسی تیل بعض کمپنیوں کے لیے تجارتی لحاظ سے فائدہ مند ہو سکتا ہے، مگر عام صارفین کے لیے اس کا فائدہ زیادہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پاکستان کو پیٹرول کی فراہمی میں تعاون کر رہے ہیں۔

وزیر پیٹرولیم نے مزید کہا کہ اگر پیٹرول کی قیمت میں اضافہ نہ کیا جاتا تو اس کا متبادل راستہ کیا ہوتا؟ انہوں نے یاد دلایا کہ 2022 میں عدم اعتماد کے دوران تحریک انصاف نے پیٹرول کی قیمتوں کے معاملے پر سیاست کی تھی جس سے ملک کو نقصان اٹھانا پڑا۔