سہیل آفریدی نے کہا کہ وہ اب کسی جنگ میں نہیں بلکہ عشقِ عمران میں مارا جائیں گے اور اپنے قائد عمران خان کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے ایک عام اور مڈل کلاس پس منظر رکھنے والے کارکن کو اتنی بڑی ذمہ داری سونپی۔

انہوں نے واضح کیا کہ وہ کسی سیاسی خاندان جیسے بھٹو، زرداری یا شریف کے نام سے نہیں بلکہ اپنے محنت اور قابلیت سے یہاں پہنچے ہیں، کسی پرچی یا سفارش کے بغیر۔

وزیراعلیٰ نے اپنی قبائلی شناخت پر فخر ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی نامزدگی پر قبائلی ہونے کی وجہ سے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا گیا، تاہم عمران خان کو قبائلیوں کے مسائل کا شعور تھا اور ان کے اس فیصلے پر قبائل خوش ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ سب سے پہلے پاکستانی ہیں اور قبائلی ہونے کی وجہ سے کسی بھی مارجن میں پیچھے نہیں ہیں۔

سہیل آفریدی نے ملکی سیاست میں فوجی آپریشنز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ فوجی کارروائیاں مسائل کا حل نہیں اور عمران خان اس کے خلاف ہیں۔

انہوں نے وعدہ کیا کہ ان کے دور میں کوئی غیر ضروری ملٹری آپریشن نہیں ہوگا اور پالیسی میں بہتری کے لیے مشران کو اعتماد میں لیا جائے گا۔

انہوں نے افغانستان کے حوالے سے کہا کہ عمران خان کے دور میں کوئی مسئلہ نہیں رہا، اور موجودہ حکومت افغانوں کو 40 سال بعد دھکے دے رہی ہے۔

انہوں نے احتجاجی سیاست پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ وہ اس کے چیمپیئن ہیں، کھونے کے لیے کچھ نہیں ہے اور عمران خان کی رہائی کے لیے تمام ممکنہ اقدامات شروع کریں گے۔

سہیل آفریدی نے زور دیا کہ ریاست عوام ہیں اور عوام ہی ریاست ہیں، اس لیے عوام عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں۔

وزیراعلیٰ نے پارٹی قیادت، سینیٹرز اور تمام عہدیداروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا ٹیم کو پاکستان کا ’سب سے بڑا اسٹبلشمنٹ‘ اور صحافی ارشد شریف کو ’سب سے بڑا شہید‘ قرار دیا۔

انہوں نے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کو عمران خان کے کہنے پر استعفیٰ دینے پر خراج تحسین بھی پیش کیا۔

سہیل آفریدی کے خطاب میں پارٹی وفاداری، قبائلی شناخت، عوامی حمایت اور عمران خان کی رہائی کو مرکزی موضوعات کے طور پر اجاگر کیا گیا، جو ان کی آئندہ سیاسی حکمت عملی کی رہنمائی کرے گا۔