یہ بات انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر ہونے والے خصوصی اجلاس کے دوران کہی، جہاں خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور اس کے عالمی اثرات پر بحث کی گئی۔

عاصم افتخار کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش اور اس کے گرد پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال نے عالمی توانائی منڈیوں کو شدید متاثر کیا ہے، جس کے باعث تیل کی فراہمی متاثر ہوئی ہے اور قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے،اس صورتحال کے اثرات پاکستان سمیت متعدد ترقی پذیر ممالک پر بھی براہِ راست پڑ رہے ہیں، جہاں توانائی کی درآمدات اور معیشت پہلے ہی دباؤ کا شکار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے آغاز کے بعد آبنائے ہرمز کی صورتحال مزید پیچیدہ ہوئی، جس سے عالمی سپلائی چین متاثر ہوا، ایسے اقدامات عالمی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔

پاکستانی نمائندے نے کہا کہ "وسیع تر علاقائی کشیدگی نہ صرف بین الاقوامی امن و سلامتی بلکہ عالمی اقتصادی استحکام کے لیے بھی خطرہ بنتی جا رہی ہے۔"

اس بات پر زوردیتے ہوئے عاصم افتخار  نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ سے خطے میں امن، استحکام اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کا حامی رہا ہے اور آئندہ بھی اس موقف پر قائم رہے گا۔

اسلام آباد میں حالیہ پاک امریکا اور ایران مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے عاصم افتخار نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ سفارتی کوششوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے،موجودہ صورتحال میں تحمل، بات چیت اور سفارت کاری ہی واحد قابلِ عمل راستہ ہے۔

پاکستان خطے کے تمام ممالک کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سیاسی آزادی کے احترام کا حامی ہے اور کسی بھی فریق کے خلاف جارحیت کی مخالفت کرتا ہے۔

واضح رہے کہ حالیہ مہینوں میں آبنائے ہرمز کی بندش اور اس کے گرد کشیدگی نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید متاثر کیا ہے، جبکہ پاکستان جیسے ممالک کو مہنگی درآمدات اور توانائی بحران جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔ اگر خطے میں کشیدگی کم نہ ہوئی تو اس کے اثرات مزید وسیع ہو سکتے ہیں، جن کا براہِ راست بوجھ ترقی پذیر معیشتوں پر پڑے گا۔