تفصیلات کے مطابق میئر کراچی مرتضیٰ وہاب ابراہیم کے گھر پہنچے جہاں انہوں نے اہلِ خانہ سے دلی افسوس اور تعزیت کا اظہار کیا۔

ترجمان میئر کے مطابق مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں گی اور جس بھی شخص کی کوتاہی ثابت ہوئی، اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچاؤ کے لیے منظم اور مؤثر اقدامات کیے جائیں گے۔

میڈیا سے گفتگو میں میئر کراچی کا کہنا تھا کہ  ننھے ابراہیم کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ دل دہلا دینے والا ہے۔ ابراہیم کی والدہ کی چیخوں پر میرے پاس الفاظ نہیں۔ میں بطور میئر خود کو کامیاب نہیں سمجھتا اور بچے کے گھر والوں سے معافی مانگتا ہوں۔

مرتضیٰ وہاب نے بتایا کہ وہ شاہ فیصل کالونی میں بچے کے والد، دادا اور دیگر اہلخانہ سے ملے۔ ابراہیم کے دادا کی خواہش تھی کہ ایسے اقدامات کیے جائیں جن سے کسی دوسرے خاندان کو اس طرح کے سانحے کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعلیٰ سندھ کی زیرِ صدارت اجلاس میں واقعے کی تمام تفصیلات پر بات ہوئی، جس سے بچے کے اہلخانہ کو بھی آگاہ کیا گیا ہے۔

میئر کراچی کے مطابق واٹر کارپوریشن کے انجینئر، کے ایم سی کے متعلقہ سینئر ڈائریکٹر، اے سی اور مختیار کار کو معطل کر دیا گیا ہے، جب کہ ایس ایس پی ایسٹ اور ڈی ایس پی ایسٹ کو بھی معطل کیا جارہا ہے تاکہ واضح پیغام جائے کہ غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔

میئر نے تسلیم کیا کہ واقعے کے وقت ریسکیو رسپانس اس معیار کا نہیں تھا جو ہونا چاہیے تھا۔ ریسکیو اہلکار اور وارڈنز موقع پر پہنچے مگر مؤثر طریقے سے کام نہ کر سکے، جب کہ شاول بھی درست طور پر استعمال نہ ہوسکی۔

انہوں نے بتایا کہ 17 نومبر کو ایک ٹرک کی وجہ سے مین ہول کا کور ٹوٹ گیا تھا مگر کسی نے متعلقہ ادارے کو اطلاع نہیں دی۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ اگر کہیں مین ہول کا ڈھکن غائب ہو تو فوری طور پر 1334 پر اطلاع دیں۔

خیال رہے کہ اتوار کے روز گلشن اقبال میں نیپا چورنگی کے قریب تین سالہ ابراہیم کھلے مین ہول میں گر گیا تھا، جس کی لاش 14 گھنٹے بعد ایک کلو میٹر دور نالے سے برآمد ہوئی۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بچہ والدہ کے ساتھ شاپنگ سینٹر سے نکل کر والد کی طرف دوڑتے ہوئے حادثے کا شکار ہوا۔