میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ حکومت مذاکرات کے دروازے بند نہیں کر رہی، تاہم مذاکرات، مفاہمت اور سیاسی خواہشات کو این آر او سے الگ سمجھنا ہوگا۔
وزیر مملکت نے کہا کہ حکومت مذاکرات سے کبھی پیچھے نہیں ہٹی، وزیراعظم کی مذاکراتی کمیٹی بھی موجود ہے جبکہ اسپیکر کا دفتر بھی سیاسی رابطوں کے لیے دستیاب ہے، تاہم حکومت کسی ایسے معاہدے یا رعایت کے لیے تیار نہیں جسے وہ این آر او قرار دیتی ہے۔
طلال چوہدری نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں عدالتی احکامات کی پابندی بنیادی اہمیت رکھتی ہے اور حکومت اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد یقینی بنائے گی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کے مجوزہ لانگ مارچ سے متعلق 37 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے میں قرار دیا تھا کہ کسی سیاسی جماعت کو عوامی سڑکوں، شاہراہوں یا دیگر مقامات پر اس انداز میں قبضہ کرنے کا قانونی حق نہیں جس سے شہریوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوں۔
وزیر مملکت کے مطابق اگر عدالتی احکامات کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو اس کے قانونی نتائج سامنے آسکتے ہیں، حکومت کی جانب سے عدالتی فیصلے کی خلاف ورزی برداشت نہیں کی جائے گی اور ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔
طلال چوہدری نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے ممکنہ کردار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں وزیراعلیٰ کو کسی بھی سیاسی سرگرمی کے دوران عدالتی احکامات اور قانونی حدود کو مدنظر رکھنا ہوگا، اگر عدالتی حکم کی خلاف ورزی ہوئی تو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو توہین عدالت کے معاملے میں قانونی طور پر جواب دینا پڑسکتا ہے۔
وزیر مملکت نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے سیاسی کردار پر بھی تنقید کی اور دعویٰ کیا کہ وہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کے لیے نہیں بلکہ اپنی سیاسی اور حکومتی پوزیشن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ طلال چوہدری کا سیاسی تجزیہ اور مؤقف ہے، جسے پی ٹی آئی کی جانب سے مختلف معاملات میں حکومتی مؤقف سے اختلاف کا سامنا رہا ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے تفصیلی فیصلے میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ سیاسی جماعتوں کو پُرامن اجتماع اور احتجاج کا حق حاصل ہے، تاہم یہ حق آئین اور قانون کے تابع ہے اور اس کے استعمال سے دوسرے شہریوں کے بنیادی حقوق متاثر نہیں ہونے چاہئیں۔ عدالت نے سرکاری مشینری کے سیاسی احتجاج کے لیے استعمال سے متعلق بھی متعلقہ حکام کو ذمہ داری کا احساس دلایا ہے۔
طلال چوہدری نے کہا کہ حکومت سیاسی اختلاف اور احتجاج کے حق کو تسلیم کرتی ہے، تاہم احتجاج کے نام پر قانون کی خلاف ورزی یا شہریوں کے معمولات زندگی میں خلل برداشت نہیں کیا جاسکتا، حکومت اور سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلافات کو آئینی اور قانونی دائرے میں رہتے ہوئے حل کیا جانا چاہیے۔
وزیر مملکت برائے داخلہ نے خیبرپختونخوا پولیس ایکٹ کے معاملے پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ اس معاملے پر پریس کانفرنس کریں گے اور خیبرپختونخوا حکومت کے مجوزہ پولیس قانون سے متعلق حکومتی مؤقف تفصیل سے سامنے رکھیں گے۔
طلال چوہدری کا الزام تھا کہ خیبرپختونخوا حکومت قانون سازی کے ذریعے پولیس کے ادارے کو سیاسی اثر و رسوخ کے تابع کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے اسے پولیس کی خودمختاری اور پیشہ ورانہ کردار کے حوالے سے ایک اہم معاملہ قرار دیا، تاہم خیبرپختونخوا حکومت کا مؤقف اس معاملے پر الگ ہوسکتا ہے۔
دوسر جانب پی ٹی آئی نے اسلام آباد کی جانب مجوزہ احتجاج اور لانگ مارچ کو آئینی و سیاسی سرگرمی قرار دیا ہے۔ پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ احتجاج کا حق استعمال کریں گے، جبکہ حکومتی حکام کا مؤقف ہے کہ احتجاج آئین، قانون اور اسلام آباد ہائیکورٹ کی ہدایات کے مطابق ہونا چاہیے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد وفاقی حکومت نے بھی واضح کیا ہے کہ عدالتی احکامات پر عملدرآمد کرایا جائے گا۔ اس سے قبل وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی کہا تھا کہ عدالتی حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جاسکتی ہے۔
حالیہ صورتحال میں حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان سیاسی کشیدگی کے ساتھ ساتھ عدالتی احکامات پر عملدرآمد بھی اہم معاملہ بن گیا ہے۔ حکومت مذاکرات کی پیشکش برقرار رکھنے کا دعویٰ کر رہی ہے جبکہ پی ٹی آئی اپنی سیاسی سرگرمیاں جاری رکھنے پر اصرار کر رہی ہے۔ ایسے میں 27 ستمبر کے مجوزہ احتجاج کے حوالے سے عدالتی ہدایات، انتظامی اقدامات اور سیاسی جماعتوں کے آئندہ فیصلے اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔







