این اے 77 کی نشست پانچ مرتبہ رکن قومی اسمبلی رہنے والے چوہدری محمود بشیر ورک کے 11 ستمبر کو طویل علالت کے بعد انتقال کے باعث خالی ہوئی تھی۔ ان کے صاحبزادے راشد بشیر ورک بھی اس ضمنی انتخاب میں امیدوار ہیں۔

اس حلقے سے راشد بشیر ورک سمیت 18 امیدواروں نے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے ہیں، تاہم تحریک انصاف، پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی سمیت اہم اپوزیشن جماعتوں نے انتخاب میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

دوسری جانب الیکشن کمیشن آف پاکستان نے انتخابی مہم کے دوران وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کی جانب سے ضابطۂ اخلاق کی مبینہ خلاف ورزی کا نوٹس لیا ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق عطا اللہ تارڑ نے ہیلی کاپٹر کے ذریعے حلقے کا دورہ کیا اور راشد بشیر ورک کے حق میں ایک انتخابی اجتماع سے خطاب کیا۔ انتخابی ضابطۂ اخلاق کے تحت وفاقی وزرا سمیت سرکاری عہدے دار انتخابی مہم میں حصہ نہیں لے سکتے۔

کمیشن نے معاملے کی تحقیقات کے لیے ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر اور ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسر سے رپورٹ طلب کر لی ہے، جبکہ عطا اللہ تارڑ کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق معاملے پر حتمی فیصلے تک حلقے کا انتخابی نتیجہ روکا بھی جا سکتا ہے۔

پی پی 203 میں دوبارہ ضمنی انتخاب

صوبائی اسمبلی کے حلقے پی پی 203 میں ضمنی انتخاب مسلم لیگ ن کے رکن اسمبلی چوہدری محمد حنیف جٹ کے 17 ستمبر 2026 کو دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کے باعث ہو رہا ہے۔ 2024 کے عام انتخابات کے بعد اس حلقے میں یہ دوسرا ضمنی انتخاب ہے۔

عام انتخابات میں یہ نشست تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار رائے مرتضیٰ اقبال نے 55 ہزار 874 ووٹ لے کر جیتی تھی، جبکہ چوہدری حنیف جٹ نے 35 ہزار 163 ووٹ حاصل کیے تھے۔

تاہم 31 جولائی کو فیصل آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت سے سزا سنائے جانے کے بعد الیکشن کمیشن نے رائے مرتضیٰ اقبال سمیت تحریک انصاف کے حمایت یافتہ پانچ ارکان اسمبلی کو نااہل قرار دے کر ان کی کامیابی کے نوٹیفکیشن منسوخ کر دیے تھے۔

اس کے بعد 23 نومبر 2025 کو ہونے والے ضمنی انتخاب میں چوہدری حنیف جٹ 46 ہزار 820 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے تھے، جبکہ ان کے قریبی حریف آزاد امیدوار فلک شیر نے 10 ہزار 975 ووٹ حاصل کیے تھے۔

پی پی 203 میں ضمنی انتخاب کے لیے 185 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں، جہاں تقریباً ایک ہزار 370 پولنگ اہلکار تعینات ہیں۔ ان میں 574 خواتین اور 796 مرد اہلکار شامل ہیں۔

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر عثمان ٹیپو کے مطابق پولنگ کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ایک ہزار 100 پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔

حلقے کے 185 پولنگ اسٹیشنز میں سے 11 کو اے، 37 کو بی اور 137 کو سی کیٹیگری میں رکھا گیا ہے۔ ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے بھی انتظامات کیے گئے ہیں اور 65 سے زائد ٹریفک اہلکار ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں۔