امریکی خبر رساں ادارے ’سی این این‘ کو دیے گئے ٹیلی فونک انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت ہو رہی ہے اور اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو دونوں ممالک کے درمیان دوبارہ جنگ شروع ہونے کا امکان بہت کم رہ جائے گا۔ تاہم ضرورت پڑنے پر وہ فوجی کارروائی سے گریز نہیں کریں گے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اس کا انحصار ایران کے ساتھ ایک مضبوط معاہدے پر ہے۔ اگر ایران معاہدے پر دستخط کرتا ہے تو دوبارہ جنگ کی ضرورت پیش آنے کا امکان انتہائی کم ہوگا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کی معیشت زوال پذیر ہے اور ملک میں مہنگائی کی شرح 301 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ ایران مالی طور پر کمزور ہوتا جا رہا ہے، جبکہ امریکا اسے فوجی لحاظ سے بھی شدید نقصان پہنچا چکا ہے اور ضرورت پڑنے پر مزید نقصان پہنچایا جاسکتا ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی کا امکان کم ہے، تاہم امریکی افواج خطے میں مکمل طور پر تیار ہیں۔ ان کے مطابق امریکا کے 3 طیارہ بردار بحری جہاز خطے میں موجود ہیں اور تینوں فوجی کارروائی کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں، جبکہ ایک طیارہ بردار بحری جہاز حال ہی میں خطے میں پہنچا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکا نے ایران کے اندر اہم تنصیبات کو بھی ممکنہ حملوں کے لیے نشانے پر رکھا ہوا ہے، جن میں بجلی گھر اور پل شامل ہیں۔
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا نے ایران کے 38 پلوں کی نشاندہی کر رکھی ہے، جنہیں ایک گھنٹے کے اندر تباہ کیا جاسکتا ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ ایرانی بنیادی ڈھانچے کو تباہ نہیں کرنا چاہتے کیونکہ ان کی دوبارہ تعمیر میں تقریباً 10 سال لگ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پلوں کی تعمیر مشکل کام ہے اور وہ انہیں تباہ کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ منگل کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے بعد مشرق وسطیٰ میں سفارتی سرگرمیوں میں تیزی آئی ہے۔ جمعے کو قطر نے بتایا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قطری امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے ٹیلی فونک رابطہ کرکے کشیدگی میں کمی کے معاملے پر گفتگو کی تھی۔
اس سے ایک روز قبل ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، عمان، پاکستان، کویت، اردن، ترکیہ، قبرص اور قطر کے وزرائے خارجہ سے بھی رابطے کیے تھے۔
دوسری جانب ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کی موجودہ صورت حال کے حوالے سے دونوں ممالک اور ثالثی کا کردار ادا کرنے والے قطر نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔
صدر ٹرمپ نے ایران کی دفاعی صلاحیت کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ امریکی حملوں میں ایرانی فضائی دفاعی نظام مکمل طور پر تباہ ہوچکا ہے اور اب ایران کے پاس طیارہ شکن نظام باقی نہیں رہا۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ایران کی میزائل بنانے کی صلاحیت تقریباً 10 فیصد جبکہ ڈرون تیار کرنے کی صلاحیت 15 فیصد رہ گئی ہے۔
امریکی صدر کے مطابق ایران کی بیشتر ڈرون اور میزائل فیکٹریاں تباہ ہوچکی ہیں، جس کے باعث اس کی دفاعی پیداواری صلاحیت شدید متاثر ہوئی ہے۔







