اتوار کو وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وزیراعظم یوتھ بزنس اور ایگریکلچر لون اسکیموں کا جائزہ اجلاس ہوا، جس میں نوجوانوں کو قرضوں کی فراہمی اور اسکیموں پر عمل درآمد کا جائزہ لیا گیا۔
وزیراعظم نے یوتھ بزنس اور ایگریکلچر لون اسکیموں کے تحت قرضوں کی حد 75 لاکھ روپے سے بڑھا کر ڈھائی کروڑ روپے کردی، جو آسان اقساط پر فراہم کیے جائیں گے۔ رواں سال ان اسکیموں کے تحت نوجوانوں کو قرضوں کی فراہمی کے لیے مجموعی طور پر 292 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
شہباز شریف نے نوجوانوں کے لیے کاروباری اور زرعی سرگرمیوں میں مالی معاونت کے مؤثر انتظامات پر وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب اور ان کی ٹیم کی کاوشوں کو سراہا۔ اجلاس میں نوجوانوں کو بااختیار بنانے، کاروباری مواقع فراہم کرنے اور زرعی شعبے میں ان کی شمولیت بڑھانے کے حوالے سے مختلف اقدامات پر غور کیا گیا۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ قرضوں کی فراہمی کے پروگرام میں خواتین کے لیے 30 فیصد قرضے مختص کیے جائیں تاکہ انہیں معاشی طور پر خودمختار بنانے اور کاروباری سرگرمیوں میں ان کی شمولیت بڑھانے کے مواقع فراہم کیے جاسکیں۔
انہوں نے نوجوانوں کے لیے قرض حاصل کرنے کی کم از کم عمر 21 سال سے کم کرکے 18 سال کرنے کی ہدایت کی تاکہ نوجوان کم عمری میں ہی کاروبار شروع کرنے اور زرعی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے مواقع سے فائدہ اٹھا سکیں۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سمیڈا) نوجوانوں کو کاروبار کے آغاز، رہنمائی، کاروباری مشاورت اور تکنیکی معاونت سمیت اسکیم کے تحت ہر ممکن سہولت فراہم کرے۔
شہباز شریف نے متعلقہ حکام کو نوجوانوں میں ان اسکیموں، دستیاب مواقع اور حکومتی اقدامات سے متعلق ملک گیر سطح پر وسیع آگاہی مہم چلانے کی ہدایت کی تاکہ زیادہ سے زیادہ نوجوان ان سہولیات سے مستفید ہوسکیں۔
انہوں نے کہا کہ نوجوان پاکستان کا قیمتی اثاثہ ہیں، حکومت نوجوانوں کو بااختیار بنانے، ان کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے اور انہیں باعزت اور پیداواری روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ جنوری 2023 سے اب تک 5 لاکھ 81 ہزار 341 نوجوانوں کو قرضے فراہم کیے جاچکے ہیں، جو گزشتہ 10 سال کے مقابلے میں 10 گنا زیادہ ہیں۔ اس دوران مجموعی طور پر 313.9 ارب روپے کے قرضے دیے گئے۔
بریفنگ کے مطابق مالی سال 2026-27 کے دوران 2 لاکھ 66 ہزار 700 نوجوانوں کو 292 ارب روپے کے قرضے فراہم کرنے کا تخمینہ ہے۔
اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے امور نوجوانان رانا مشہود احمد خان اور وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور طلحہ برکی نے شرکت کی۔







