خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے اتوار کو جاری بیان میں کہا کہ صبح سے اب تک تین تیل بردار جہازوں کو نقصان پہنچا ہے، جو ایران کی جانب سے غیر مجاز قرار دیے گئے بحری راستے سے گزر رہے تھے۔
سپاہ پاسداران کے مطابق متاثرہ جہاز قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک غیر مجاز راستے سے گزر رہے تھے اور ان میں آگ لگنے کی وجہ اس راستے میں موجود سمندری بارودی سرنگوں سے ٹکرانا تھا۔
پاسدارانِ انقلاب کے شعبہ تعلقاتِ عامہ نے اپنے بیان میں کہا کہ جہازوں میں آگ لگنے کی ایک وجہ نیویگیشن اور شناخت کے نظاموں کا ناکارہ ہونا بھی ہے۔ اس کے علاوہ امریکہ کی جانب سے ان جہازوں کی حوصلہ افزائی کے لیے کیے گئے اشتعال انگیز اقدامات کو بھی اس واقعے کا سبب قرار دیا گیا ہے۔
ایران کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کا جنوبی راستہ، جو عمان کے ساحل کے قریب واقع ہے اور جہاں امریکا گزرنے والے بحری جہازوں کو تحفظ فراہم کرتا ہے، غیر قانونی ہے۔
ایرانی حکام نے تاحال متاثرہ آئل ٹینکرز کے نام، ان کی ملکیت اور قومی شناخت ظاہر نہیں کی، جب کہ جہازوں کے عملے اور ممکنہ جانی نقصان سے متعلق بھی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
ایران نے جہازوں کی نقل و حرکت کے لیے اپنے منظور شدہ بحری راستوں پر عمل درآمد پر زور دیا ہے، جب کہ امریکا نے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی کر رکھی ہے۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تجارتی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر تیل کی بڑی مقدار منتقل کی جاتی ہے۔ اس آبی راستے میں کشیدگی کے باعث عالمی توانائی کی ترسیل اور تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ اس وقت آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل کی مقدار ایران کے ساتھ جنگ کے آغاز کے وقت کے مقابلے میں زیادہ ہے۔
گزشتہ چند دنوں کے دوران تیل کی قیمتوں میں کمی آئی ہے، تاہم یہ اب بھی جنگ سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں کافی زیادہ ہیں۔







