گوجرانوالہ کے حلقہ این اے 77 میں مسلم لیگ (ن) کے راشد بشیر ورک، مرکزی مسلم لیگ کے قاضی ابراہیم گجر اور آزاد امیدوار الفت رسول وڑائچ میدان میں ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے اس نشست پر اپنا امیدوار کھڑا نہیں کیا، جبکہ پاکستان تحریک انصاف نے انتخاب کا بائیکاٹ کر رکھا ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق حلقے میں ووٹرز کی تعداد 5 لاکھ 18 ہزار ہے اور 333 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں۔

این اے 77 گوجرانوالہ ون کے 333 پولنگ اسٹیشنز میں سے 222 کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے راشد بشیر ورک 24 ہزار 808 ووٹ لے کر آگے ہیں، جبکہ پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے محمد ابراہیم 17 ہزار 963 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔

دوسری جانب پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 203 ساہیوال 6 کے ضمنی انتخاب میں مسلم لیگ (ن) نے کامیابی حاصل کرلی۔

غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے محمد اسد حنیف 42 ہزار 114 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے، جبکہ تحریک احساس پاکستان کے محمد اویس محمود 24 ہزار 512 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

واضح رہے کہ قومی اسمبلی کا حلقہ این اے 77 مسلم لیگ (ن) کے محمود بشیر ورک، جبکہ پنجاب اسمبلی کا حلقہ پی پی 203 مسلم لیگ (ن) کے حنیف جٹ کے انتقال کے باعث خالی ہوا تھا۔

ادھر وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے الزام عائد کیا ہے کہ گوجرانوالہ کے ضمنی انتخاب میں مرکزی مسلم لیگ کے کارکن سرعام مہریں لگاتے ہوئے پکڑے گئے۔

عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ مرکزی مسلم لیگ کے لوگ الیکشن کمیشن کے عملے کے سامنے مہریں لگاتے رہے۔ انہوں نے اس حوالے سے ایک ویڈیو بھی جاری کی اور دعویٰ کیا کہ ویڈیو میں مرکزی مسلم لیگ کے پولنگ ایجنٹس نظر آرہے ہیں، جبکہ قاضی ابراہیم گجر کے لوگ سرعام مہریں لگاتے رہے۔