دیر بالا میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے جلسے میں بڑی تعداد میں عوام کی شرکت پر اظہارِ اطمینان کرتے ہوئے کہا کہ پہاڑوں کے دامن میں واقع اس اسٹیڈیم کا مکمل بھر جانا جماعتِ اسلامی کی عوامی قوت کا واضح ثبوت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آج کا عظیم الشان جلسہ اس بات کی ضمانت ہے کہ جماعتِ اسلامی ملک میں ایک مؤثر سیاسی قوت کے طور پر موجود ہے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ آج تک نہ عوام کے حالات بدلے اور نہ ہی ملک کی مجموعی صورتحال میں بہتری آئی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ جماعتِ اسلامی آنے والے دنوں میں نظام کی تبدیلی کے لیے ایک بھرپور تحریک چلائے گی اور عوام کو اس جدوجہد کے لیے تیار رہنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ عوام کا حق مارنے والے اور اپنے محلات بنانے والے عناصر اس تحریک کی مخالفت کریں گے، جبکہ وسائل پر قبضہ کرنے والے بھی اس کے خلاف کھڑے ہوں گے۔ ان کے مطابق دیر بالا کا یہ جلسہ پورے پاکستان میں ایک انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔
امیر جماعتِ اسلامی نے کہا کہ نئی قیادت، نیا نظام کے نعرے کے تحت یہ جلسہ منعقد کیا گیا ہے اور آئندہ اس جدوجہد میں خواتین کو بھی شامل کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ مستقبل میں اس سے بھی بڑا اور تاریخی جلسہ منعقد کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس بڑی تحریک کے لیے تیاری بھی بڑی کرنی ہوگی اور قربانی و ایثار کا پیکر بننے کے لیے بھی تیار رہنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب اس نظام کو چیلنج کیا جائے گا تو اس سے فائدہ اٹھانے والے، مفادات حاصل کرنے والے، عوام کا حق مارنے والے، ان کے خون پسینے کی کمائی سے محلات بنانے والے، منی لانڈرنگ کرنے والے اور وسائل پر قبضہ کرنے والے سب اس تحریک کے خلاف کھڑے ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ اگر دیر بالا کے نوجوان اس بڑی جدوجہد کے لیے تیار ہیں تو وہ پورے پاکستان کے لیے انقلاب کا پیش خیمہ بنیں گے اور یہ سفر آج سے شروع ہو رہا ہے۔
حافظ نعیم الرحمن نے ملک میں کرپشن اور مافیا کلچر پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کہیں 32 ارب روپے کی کرپشن ہے، کہیں شعبۂ تعلیم میں بدعنوانی ہے، کہیں ٹھیکوں میں کرپشن ہے اور کہیں جنگلات کی کٹائی اور ماحولیات کی تباہی میں بدعنوانی ہو رہی ہے، جبکہ ہر جگہ ایک مخصوص طبقہ فائدہ اٹھا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کبھی آئی پی پیز مافیا، کبھی گیس مافیا، کبھی چینی مافیا اور کبھی آٹا مافیا مل کر 25 کروڑ عوام پر اپنی اجارہ داری قائم کیے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ تمام عناصر ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور ایک اتحاد کی صورت میں کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بظاہر پارٹیاں، جھنڈے اور نعرے بدل جاتے ہیں، لیکن حقیقت میں وہی خاندان اور وہی لوگ مختلف جماعتوں میں نظر آتے ہیں، چاہے مارشل لا ہو یا جمہوریت، چہرے وہی رہتے ہیں۔
انہوں نے بیوروکریسی کے نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ نظام ایسی ذہنیت پیدا کرتا ہے جیسے وہ قوم کے حاکم ہوں۔ اگر کسی غریب کے پاس سفارش یا دولت نہ ہو تو اسے انصاف نہیں ملتا، اس کی نسلیں گزر جاتی ہیں مگر انصاف نہیں ملتا، جبکہ ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ تک رسائی بھی عام آدمی کے لیے خواب بن چکی ہے۔
امیر جماعتِ اسلامی نے ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کے معاملے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہاں بااثر لوگوں کے اپارٹمنٹس موجود ہیں، ایک طرف مڈل کلاس کے فلیٹس گرانے کے فیصلے کیے جاتے ہیں اور دوسری طرف اسی نوعیت کے بڑے منصوبوں کو تحفظ دیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ ایک ہی ملک میں دو نظام نظر آتے ہیں، ایک امیروں کے لیے اور دوسرا غریبوں کے لیے۔ ان کے مطابق یہ دوہرا معیار ختم ہونا چاہیے کیونکہ ایک ملک میں دو دستور نہیں چل سکتے۔
حافظ نعیم الرحمان نے حکومت کی معاشی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو بتایا جاتا ہے کہ معیشت جنگی حالات کی وجہ سے خراب ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ گزشتہ چار سال میں قرضہ کیوں بڑھا؟ جنگ تو حالیہ ہفتوں میں شروع ہوئی ہے، لہٰذا یہ سب ناقص حکمرانی اور کرپشن کا نتیجہ ہے۔
انہوں نے پٹرول کی قیمتوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جب عالمی منڈی میں قیمتیں کم ہوئیں تو عوام کو ریلیف نہیں دیا گیا، جبکہ اب قیمتوں میں اضافے کا سارا بوجھ عوام پر ڈال دیا گیا ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے جلسہ عام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ لیوی کون ادا کرتا ہے؟ نہ جج، نہ جرنیل، نہ بڑے بیوروکریٹس یہ سب بوجھ غریب آدمی، کسان اور متوسط طبقہ اٹھاتا ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کے خلاف ہمیں کھڑا ہونا ہے۔







