سپریم کورٹ کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق، چیف جسٹس نے نئے سال کے موقع پر پاکستانی قوم، عدلیہ کے اراکین، قانونی برادری اور انصاف کے متلاشی افراد کو دلی مبارکباد اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آئین عدلیہ کو یہ اہم ذمہ داری دیتا ہے کہ انصاف نہ صرف کیا جائے بلکہ عوام کی نظر میں بھی ظاہر ہو۔ یہ ذمہ داری اس وقت اور زیادہ اہمیت اختیار کر جاتی ہے جب عام شہری امید، اعتماد اور بعض اوقات بے بسی کے عالم میں عدالتوں کا رخ کرتے ہیں۔

شہری مرکزیت کے اصول پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آنے والا سال غور و فکر، اصلاحات اور عدالتی عمل میں شہری کو مرکزیت دینے کے عزم کی تجدید کا متقاضی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ انصاف نہ صرف اصولی بلکہ عملی طور پر ہر فرد کے لیے قابل رسائی ہونا چاہیے، اور طریقۂ کار خواتین، بچوں، معاشرے کے محروم طبقات اور دور دراز علاقوں کے رہائشیوں کی ضروریات سے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آئندہ سال عدلیہ ایسے بامعنی اصلاحاتی اقدامات کرے گی، جن کا مقصد انصاف تک رسائی کو بہتر بنانا، مقدمات میں تاخیر کم کرنا، شفافیت کو مضبوط کرنا اور عدالتی کارکردگی میں بہتری کے لیے ٹیکنالوجی کا ذمہ دارانہ استعمال ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ اصلاحات عوام کے لیے سب سے زیادہ اہم نتائج پر مرکوز ہوں گی، جن میں بروقت فیصلے، قابلِ فہم طریقۂ کار اور عوام دوست، انسانی ہمدردی پر مبنی عدالتیں شامل ہیں۔

جسٹس یحییٰ آفریدی نے ادارے پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اجتماعی عزم، پیشہ ورانہ مہارت اور دیانتداری کے ذریعے عدلیہ عوامی اعتماد کو مزید مستحکم رکھے گی اور آئین میں درج اعلیٰ اقدار کی پاسداری جاری رکھے گی۔

چیف جسٹس نے عزم ظاہر کیا کہ عدلیہ ہر شہری کی خدمت انصاف، خودمختاری اور ہمدردی کے ساتھ کرتی رہے گی اور امید ظاہر کی کہ نیا سال قانون کی حکمرانی پر عوام کے اعتماد میں اضافہ اور ایک ایسا نظام انصاف قائم کرے گا جو ہر فرد تک پہنچ سکے