اپنے دورۂ برسلز کے دوران افغان ڈیموکریٹک اپوزیشن نے یورپی یونین اور عالمی برادری کو آگاہ کیا، اپوزیشن وفد نے 3 سے 5 دسمبر تک برسلز میں انڈیپنڈنٹ ڈپلومیٹ اور یورپین فاؤنڈیشن فار ڈیموکریسی کے تعاون سے ہونے والی اہم نشستوں میں اپنا مؤقف پیش کیا۔
وفد کے مطابق طالبان کی حکمرانی افغانستان کو تیزی سے ایک ناکام ریاست کی طرف لے جا رہی ہے۔ دہشت گرد گروہوں کو محفوظ پناہ گاہیں مل رہی ہیں، خواتین کے بنیادی حقوق سلب کیے جا رہے ہیں۔
ان کے علاوہ امدادی اداروں پر پابندیاں عائد ہیں، جب کہ سیاسی شمولیت مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے۔ یہ تمام عوامل براہِ راست یورپ کی سلامتی اور خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔
اپوزیشن وفد نے مؤقف اختیار کیا کہ طالبان نے دوحہ معاہدے سمیت تمام بین الاقوامی وعدے توڑتے ہوئے جامع حکومت تشکیل دینے کی بجائے اقتدار صرف محدود گروہ تک محدود کر رکھا ہے، جس کے نتیجے میں غیر قانونی نقل مکانی، انتہا پسندی اور سکیورٹی خدشات بالخصوص یورپ میں بڑھ رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کی دو کامیاب کارروائیاں، انڈین حمایت یافتہ ’فتنہ الخوارج‘ کے 9 دہشت گرد ہلاک
افغان ڈیموکریٹک اپوزیشن نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ افغانستان کو تباہی سے بچانے کے لیے طالبان پر سفارتی دباؤ، پابندیوں اور سفارتی تنہائی کو مؤثر انداز میں بڑھایا جائے۔
وفد کا کہنا تھا کہ پاکستان سمیت خطے کے ممالک طالبان کی سرپرستی میں چلنے والے دہشت گرد نیٹ ورکس کی بارہا نشاندہی کر چکے ہیں اور اس صورتحال میں سخت اور مربوط عالمی حکمتِ عملی ناگزیر ہو چکی ہے۔







