نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں سینئر صحافی علمدار بلوچ کی والدہ کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ محمود خان اچکزئی کے والد، باچا خان اور محترمہ بے نظیر بھٹو شہید نے بھی جیلیں کاٹیں، مگر کسی نے پاکستان کے خلاف بات نہیں کی۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک شخص اڈیالہ جیل میں قید ہے اور انتشار پھیلانے کے لیے ٹوئٹس کرتا ہے، مقدمات گالم گلوچ سے نہیں بلکہ دلیل اور ثبوت کے ساتھ لڑے جاتے ہیں۔
فیصل کریم کنڈی نے سوال اٹھایا کہ ریڈیو پاکستان کی عمارت پر حملہ کس نے کیا اور کرنل شیر خان کا مجسمہ کس نے گرایا؟
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کو اپنی جماعت میں کوئی قیادت نہ ملی تو امپورٹڈ لیڈر منگوائے گئے، بتایا جائے ان امپورٹڈ لیڈران کی ایکسپائری ڈیٹ کیا ہے؟
لازمی پڑھیں: خیبرپختونخوا سے فوج چلی جائے تو پی ٹی آئی دو دن بھی صوبہ نہیں سنبھال سکتی، گورنر کے پی
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ اڈیالہ جیل کے باہر واٹر کینن آنے پر ناصر عباس نے اسے کربلا کا میدان قرار دیا، جب کہ اصل کربلا کا میدان خیبر پختونخوا میں بنا ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک طرف دعویٰ کیا جاتا ہے کہ مذاکرات کا اختیار محمود خان اچکزئی اور راجہ ناصر عباس کو دیا گیا ہے، دوسری جانب ٹوئٹس آتی ہیں کہ کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے۔
فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ پاکستان نے جنگ اور سفارتی محاذ پر بھارت کو شکست دی، جب کہ ٹیلی گراف اخبار میں بھی چیف آف ڈیفنس فورسز کی تعریف شائع ہوئی ہے۔







