اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان نے بارہا خیرسگالی کے تحت تعاون بڑھایا اور اعلیٰ سطح کے رابطے جاری رکھے، لیکن اس کے باوجود افغان سرزمین دہشت گرد تنظیموں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بنی ہوئی ہے، دہشت گرد گروہ سرحد پار حملوں کی منصوبہ بندی، تربیت اور مالی معاونت افغان سرزمین سے کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں اس سال پاکستان میں 1,200 سے زائد قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔

ان کے مطابق داعش خراسان، القاعدہ، ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور دوسرے گروہ افغانستان میں آزادانہ سرگرم ہیں، جب کہ طالبان کی صفوں میں شامل مخصوص عناصر انہیں سہولت فراہم کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کی رپورٹیں بھی اس صورتحال کی تصدیق کرتی ہیں۔

انہوں  نے واضح کیا کہ پاکستان نے درجنوں دراندازی کی کوششیں ناکام بنائیں اور بڑی تعداد میں جدید اسلحہ برآمد کیا، لیکن طالبان کی جانب سے ٹھوس انسدادِ دہشت گردی اقدامات نہ ہونے کے باعث علاقائی سکیورٹی مزید بگڑ رہی ہے۔

مزید پڑھیں: امریکا کی نیٹو سے علیحدگی کا مطالبہ، بل امریکی کانگریس میں پیش


ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام اٹھائے گا اور UNAMA سے بھی توقع ہے کہ وہ سرحدی صورتحال کا غیر جانبدارانہ اور شواہد پر مبنی جائزہ پیش کرے۔

افغان مہاجرین سے متعلق گفتگو میں پاکستانی مندوب نے کہا کہ پاکستان نے 40 سال سے زیادہ افغان بھائیوں کی میزبانی کی، لیکن غیر قانونی رہائش ایک سنجیدہ سکیورٹی چیلنج بن چکی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ افغانستان کی مشکلات کا ملبہ واپس لوٹنے والے افغان شہریوں پر ڈالنا حقیقت کے منافی ہے۔

سفیر نے بتایا کہ پاکستان نے لبرل ویزا پالیسی کے تحت صرف طبی بنیادوں پر ہی پانچ لاکھ سے زائد افغان شہریوں کو ویزے جاری کیے۔

انہوں نے دوحہ عمل اور علاقائی روابط کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک پُرامن، مستحکم اور خوشحال افغانستان چاہتا ہے، لیکن اس کے لیے طالبان کو عالمی توقعات پر پورا اترنا ہوگا اور اپنی سرزمین دہشت گرد عناصر کے لیے استعمال ہونے سے روکنا ہوگی۔

آخر میں انہوں نے کہا کہ افغانستان سے سب سے زیادہ متاثر پاکستان ہوا ہے، اسی لیے پاکستان ایک پائیدار امن کے لیے کوششیں جاری رکھے گا۔