بل کے مسودے میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ نیٹو اب امریکی قومی سلامتی کے موجودہ مفادات سے مطابقت نہیں رکھتا۔

 ٹامس میسی نے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ نیٹو سرد جنگ کی یادگار ہے اور چونکہ امریکا اس دفاعی اتحاد کے لیے خطیر رقم فراہم کرتا ہے، اس لیے ہمیں اس سے علیحدہ ہو کر یہ وسائل اپنے ملک کے دفاع کے لیے استعمال کرنا چاہئیں، نہ کہ سوشلسٹ ممالک کی حفاظت پر خرچ کریں۔

بل کے متن میں مزید کہا گیا ہے کہ نیٹو کے رکن یورپی ممالک اپنے دفاع کے لیے کافی اقتصادی اور فوجی صلاحیت رکھتے ہیں اور انہیں امریکی سرپرستی پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔

مسودے میں نیٹو کی 1999 میں مشرق کی طرف توسیع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ عمل اس دفاعی اتحاد کے اپنے وعدوں اور بیانات سے متصادم ہے، جس کے باعث نیٹو امریکی قومی سلامتی کے موجودہ تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں رہا۔

ابھی یہ واضح نہیں کہ امریکی ایوانِ نمائندگان اس بل پر کب غور کرے گا۔ اس مرحلے پر بل کو منظوری کے لیے ایوان کی متعلقہ کمیٹیوں سے گزرنا ہوگا۔

ریپبلکن رکنِ کانگریس ٹامس میسی اس سے قبل بھی واشنگٹن کی فوجی مداخلت اور دیگر ممالک کے معاملات میں امریکا کے کردار پر تنقید کرتے رہے ہیں۔

انہوں نے 22 جون کو ایرانی تنصیبات پر امریکی حملوں کو آئین کے خلاف قرار دیتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نشانہ بنایا تھا، جس کے جواب میں ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی میسی پر سخت تنقید کی اور یہاں تک کہا کہ وہ ریپبلکن پرائمری میں میسی کے حریف کی حمایت کریں گے۔

یاد رہے کہ نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن (نیٹو) 1949 میں قائم ہوئی، اُس وقت اس کے 12 رکن تھے، جب کہ اب یہ تعداد بڑھ کر 32 ہو چکی ہے۔