میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عطااللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان نے افغان جارحیت پر مؤثر اور بروقت کارروائی کی۔ افغانستان کی سرزمین پاکستان میں حالیہ دہشت گرد کارروائیوں کے لیے استعمال کی گئی اور وہاں دہشت گردوں کو تربیت فراہم کی جاتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے پاک افغان صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی ہے۔ افغانستان میں اس وقت طالبان کی غیر قانونی حکومت قائم ہے جس نے زبردستی اقتدار پر قبضہ کر رکھا ہے۔
🚨🚨🚨دہشت گردوں اور افغان طالبان حکومت کے درمیان گٹھ جوڑ دن کی روشنی کی طرح واضح ہے۔ افغان سرزمین پاکستان میں دہشت گردی کی سرگرمیوں کے لیے استعمال ہو رہی ہے، جس کے نتیجے میں ہمارے معصوم شہریوں، سیکیورٹی اہلکاروں اور جوانوں کی جانیں ضائع ہو رہی ہیں، عطاء تارڑ pic.twitter.com/9iAiaJIjwh
— Sheraz Ahmad Sherazi (@Sherazi_Silmian) February 27, 2026
وزیر اطلاعات نے کہا کہ اسلام آباد کچہری اور ترلائی حملوں میں افغان شہری ملوث تھے۔ افغان طالبان رجیم کے دور میں اقلیتیں، خواتین اور بچے محفوظ نہیں ہیں، جب کہ لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی عائد ہے۔
عطاءاللہ تارڑ نے کہا کہ افغان شہری بنیادی حقوق سے محروم ہیں اور طالبان دورِ حکومت میں بچوں کو ویکسین تک نہیں دی جا رہی۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ طالبان حکومت مذہب کو اپنے سیاسی اور ذاتی مفادات کے لیے استعمال کر رہی ہے۔







