دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق افغانستان کی سرزمین سے فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کی جانب سے پاکستان کے خلاف بار بار دہشت گرد حملوں اور 26 فروری کی شب طالبان حکومت کی حالیہ بلااشتعال اور اشتعال انگیز کارروائیوں کے ردعمل میں پاکستان کی بہادر مسلح افواج نے نہایت درست اور ہدفی کارروائیاں کیں۔
جاری کردہ بیان کے مطابق ان کارروائیوں میں دہشت گرد تنظیموں کو بھاری نقصان پہنچایا گیا اور افغانستان میں موجود ان کے لاجسٹک سپورٹ مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔
دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان نے یہ اقدامات اپنے حقِ دفاع کے تحت کیے تاکہ اپنے شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے ساتھ ساتھ خطے اور اس سے باہر کے امن و استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔
بیان میں خبردار کیا گیا کہ طالبان حکومت کی جانب سے کسی بھی مزید اشتعال انگیزی یا کسی دہشت گرد گروہ کی طرف سے پاکستان کے عوام کی سلامتی اور فلاح کو نقصان پہنچانے کی کوشش کا مؤثر، متوازن اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔
دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کا خواہاں ہے اور افغانستان کی سرزمین سے جنم لینے والی دہشت گردی کے مسئلے کے حل کے لیے سیاسی و سفارتی کوششوں میں صبر و تحمل کے ساتھ مصروف رہا ہے۔
بیان میں افسوس کا اظہار کیا گیا کہ پاکستان کے متعدد خیرسگالی اقدامات اور ذمہ دارانہ طرز عمل کو غلط سمجھا گیا، جس کے نتیجے میں افغانستان کی سرزمین سے دہشت گرد حملوں میں اضافہ ہوا، جنہیں طالبان حکومت اور انڈیا کی فعال حمایت حاصل رہی۔
یہ بھی پڑھیں: آپریشن ’غضبُ الحق‘ کے دوران اب تک 274 طالبان اہلکار ہلاک، 400 سے زائد زخمی: ڈی جی آئی ایس پی آر
پاکستان نے افغانستان سے جنم لینے والی دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے افغان حکومت پر زور دیا کہ وہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کو حاصل استثنیٰ کا خاتمہ کرے اور ان کے خلاف ٹھوس اور قابل تصدیق اقدامات کرے۔
بیان میں کہا گیا کہ عالمی برادری بھی اپنی ذمہ داری ادا کرے اور طالبان حکومت کو واضح پیغام دے کہ وہ دہشت گرد گروہوں کے خلاف اپنے وعدوں سے انحراف نہ کرے اور ان کی حمایت بند کرے۔
دفتر خارجہ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان بین الاقوامی قانون، بشمول اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق اپنے دفاع اور اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے تمام مناسب اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔







