کوئٹہ میں قومی پیغامِ امن کمیٹی کے اراکین کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے علامہ طاہر اشرفی نے بتایا کہ بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال تسلی بخش ہے اور ملکی سلامتی و تحفظ ہر چیز سے مقدم ہے،پاکستان کی افواج فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج کا بھرپور مقابلہ کر رہی ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ سرحدی علاقوں میں کی جانے والی کارروائیاں ملک کے دفاع کے لیے ناگزیر ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ دہشتگرد کا کوئی مذہب نہیں ہوتا اور پُرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے۔ ریاست اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر وقت کوشاں ہ، اپنے تین روزہ دورہ کوئٹہ کے دوران انہیں حکام کی جانب سے سکیورٹی صورتحال پر بریفنگ دی گئی اور وزیراعلیٰ، گورنر سمیت دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں بھی ہوئیں۔
انہوں نے بتایا کہ افغانستان کو دہشتگردی سے متعلق تمام شواہد فراہم کیے جا چکے ہیں اور پاک افغان سرحد کے نزدیک فوجی کارروائیاں ملک کی حفاظت کے لیے ضروری ہیں، قومی پیغامِ امن کمیٹی کا مقصد معاشرے میں مساوات اور بھائی چارے کا فروغ ہے اور کمیٹی امن کے قیام کے لیے ہر ممکن کردار ادا کرتی رہے گی۔
مزید پڑھیں: مسلم اُمہ کے اتحاد کو نقصان پہنچانے کی سازشیں ناکام بنائی جائیں، علامہ طاہر اشرف
اس موقع پر کمیٹی کے دیگر اراکین نے بھی امن کے قیام پر زور دیا۔ مولانا عبدالرحیم نے کہا کہ بلوچستان میں کیے جانے والے اقدامات کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے اور حقیقی مسائل پر سنجیدہ مکالمے کے ذریعے حل نکالا جائے گا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ عید کے بعد دو روزہ غیر معمولی سیمینار منعقد کیا جائے گا تاکہ مکالمے کے ذریعے امن کو فروغ دیا جا سکے۔
علامہ ہاشم موسوی نے بھی امن کے قیام کے لیے مکالمے کو بہترین اور مؤثر راستہ قرار دیا اور کہا کہ سماجی، مذہبی اور حکومتی شعبوں کے باہمی تعاون سے ہی ملک میں دیرپا امن قائم کیا جا سکتا ہے۔







