عطا الرحمان، سلیم اللہ اور احتشام الحق کو نصف سال قبل پاک افغان سرحدی علاقے میں مویشی چراتے ہوئے اغوا کر لیا گیا تھا۔ واقعے کے بعد علاقے میں شدید تشویش پائی جاتی تھی اور اہلِ خانہ اپنے پیاروں کی سلامتی کے لیے بے چین تھے۔

ذرائع کے مطابق اغوا کے بعد مقامی عمائدین، سیاسی شخصیات اور سماجی رہنماؤں نے ان کی بازیابی کے لیے مختلف سطحوں پر کوششیں شروع کیں۔ اس سلسلے میں سینیٹر طلحہ محمود نے خصوصی کردار ادا کیا اور مسلسل رابطوں اور کاوشوں کے بعد تینوں افراد کی رہائی ممکن ہوئی۔

بازیابی کے بعد سینیٹر طلحہ محمود خود تینوں افراد کو لے کر وادی بمبوریت پہنچے، جہاں ان کا شاندار استقبال کیا گیا۔ مسلم اور کالاش برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد استقبال کے لیے موجود تھی۔ شہریوں نے بازیاب ہونے والے افراد پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں اور خوشی کا اظہار کیا۔

مزید پڑھیں: سندھ اسمبلی کے باہر جماعت اسلامی کے احتجاج پر شیلنگ، کراچی میں 10 مقامات پر دھرنے ، ملک گیر احتجاج

چھ ماہ بعد اپنے پیاروں سے ملاقات کے لمحات نہایت جذباتی تھے۔ اہلِ خانہ آبدیدہ ہوگئے اور ایک دوسرے کو گلے لگا کر اللہ کا شکر ادا کیا۔ مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ یہ عرصہ ان کے لیے کسی کڑے امتحان سے کم نہیں تھا۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ چترال کے عوام امن پسند، مہذب اور تعلیم یافتہ ہیں اور وہ ہمیشہ قانون کا احترام کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اغوا شدگان کی رہائی کو انہوں نے اپنا ذاتی مشن بنایا کیونکہ چترال کے عوام ان کے لیے خاندان کی حیثیت رکھتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ سرحدی علاقوں میں سیکیورٹی کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ چترال کی ترقی، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور بدعنوانی کے خاتمے کے لیے سب کو مل کر کردار ادا کرنا ہوگا۔

دوسری جانب مقامی رہائشیوں نے سینیٹر طلحہ محمود کا شکریہ ادا کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پاک افغان سرحدی پٹی میں نگرانی کے نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں رہنے والے چرواہے اور مقامی افراد اکثر سیکیورٹی خدشات کا سامنا کرتے ہیں، اس لیے ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔

واضح رہے کہ وادی بمبوریت اپنی ثقافتی تنوع، قدرتی حسن اور پُرامن ماحول کے باعث ملک بھر میں شہرت رکھتی ہے۔ اغوا کے واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس کی فضا پیدا ہوگئی تھی تاہم تینوں شہریوں کی بحفاظت واپسی سے ایک بار پھر اطمینان کی فضا قائم ہوگئی ہے۔