نجی نشریاتی ادارے سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ افغانستان سے بات چیت کے ذریعے معاملات حل کرنے کی بھرپور کوششیں کی گئی ہیں، لیکن افغان حکومت پر مزید اعتماد کرنا ایک خطرناک اقدام ہوگا۔
وزیر دفاع نے کہا کہ کابل حکومت پر اعتماد کرنا ایک بڑا خطرہ ہے اور اس سلسلے کا رویہ نہ آج قابل قبول ہے اور نہ ہی مستقبل میں۔
خواجہ آصف نے مزید کہا کہ افغانستان ہمیشہ دہشت گردی کی پشت پناہی کرتا رہا ہے، پاکستان میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان افغانستان کی فرنچائز ہے اور اگر ان کی پشت پناہی افغانستان سے نہ ہوتی تو یہ تنظیم کب کی ختم ہو چکی ہوتی۔
انہوں نے اقتصادی صورتحال پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پیٹرولیم کی قیمتیں پوری دنیا پر اثرانداز ہو رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران ہمارا برادر ملک ہے اور دیگر اسلامی ممالک بھی ہمارے بھائی ہیں۔ دعا کی جانی چاہیے کہ یہ عارضی صورتحال جلد ختم ہو اور اس جنگ کا کوئی حل نکل آئے۔






