وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان عالمی امن کے لیے بھرپور کردار ادا کر رہا ہے اور تنازعات کا پرامن حل پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم ستون ہے۔  پاکستان کی حمایت سے غزہ میں امن منصوبہ منظور ہوا، اور جنگ بندی کے لیے سعودی عرب، قطر، ترکیہ، متحدہ عرب امارات، اردن اور ایران کا تعاون قابل ستائش ہے۔

انہوں  نے کہا کہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2788 پاکستان کے وژن کی تائید کرتی ہے اور مشرق وسطیٰ میں طویل مدتی جنگ بندی اور انسانی بنیادوں پر امداد کی فراہمی ضروری ہے۔

مزید پڑھیں: کراچی: کورنگی میں ٹینکر کے خوفناک حادثے میں 12 سالہ بچہ ہلاک

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پائیدار امن اور ترقی لازم و ملزوم ہیں، ترقی یافتہ ٹیکنالوجیز تک منصفانہ رسائی، مالیاتی شمولیت اور خواتین کو معاشی دھارے میں لانا حکومت کی ترجیح ہے۔

انہوں  نےمزید کہا کہ پاکستان کا صاف اور سرسبز ترقیاتی ماڈل عالمی مثال ہے، اور موسمیاتی تبدیلی اور عدم مساوات جیسے چیلنجز پر عملی اقدامات کے ذریعے قابو پانا وقت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے دنیا پر زور دیا کہ تجارت کے ساتھ انسانوں اور خیالات کو جوڑنے والے پل تعمیر کرنا ضروری ہیں۔