آزاد کشمیر کے نو منتخب وزیر اعظم بیرسٹر سید افتخار علی گیلانی کا وزارتِ عظمیٰ تک پہنچنے کا سفر غیر معمولی سیاسی اتار چڑھاؤ سے گزرا، کیونکہ چند ہفتے قبل وہ عام انتخابات میں اپنی نشست ہار گئے تھے، تاہم ٹیکنوکریٹ کی مخصوص نشست کے ذریعے دوبارہ اسمبلی میں پہنچے اور اب ریاست کے سب سے بڑے انتظامی منصب پر فائز ہوگئے ہیں۔
افتخار گیلانی کے مقابلے میں پاکستان پیپلز پارٹی نے سردار مختار احمد خان کو قائد ایوان کے امیدوار کے طور پر میدان میں اتارا تھا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ حالیہ عام انتخابات میں بھی دونوں امیدوار ایک دوسرے کے مدمقابل تھے، جہاں افتخار گیلانی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں مسلم لیگ (ن) نے انہیں ٹیکنوکریٹ کی مخصوص نشست پر اسمبلی میں واپس لایا۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق مسلم لیگ (ن) اور اس کے اتحادیوں کو قانون ساز اسمبلی میں واضح عددی برتری حاصل ہے۔
افتخار گیلانی کون ہیں؟
بیرسٹر سید افتخار علی گیلانی کا تعلق مظفرآباد کے ایک معروف سیاسی خاندان سے ہے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم اسلام آباد میں حاصل کی اور اعلیٰ تعلیم کے لیے برطانیہ چلے گئے، جہاں سے بار ایٹ لا کی ڈگری حاصل کی۔ وطن واپسی کے بعد انہوں نے اسلام آباد میں تقریباً ایک دہائی تک وکالت کی اور آئینی و قانونی معاملات میں تجربہ حاصل کیا۔
مزید پڑھیں: آزاد کشمیر؛ ن لیگ میں ٹکٹوں پر اختلافات، راجہ عبدالقیوم خان نے پارٹی چھوڑنے کی تیاری کر لی
ان کا سیاسی سفر مسلم لیگ (ن) کے پلیٹ فارم سے شروع ہوا۔ 2011 کے عام انتخابات میں کامیابی کے بعد وہ پہلی مرتبہ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے، جبکہ 2016 میں بھی انہوں نے کامیابی حاصل کی اور دوسری مرتبہ اسمبلی پہنچے۔ بعد ازاں راجا فاروق حیدر کی حکومت میں انہیں وزیر تعلیم بنایا گیا۔
وزارتِ تعلیم کے دوران اساتذہ کی بھرتیوں میں میرٹ اور نیشنل ٹیسٹنگ سروس کے نظام کو آگے بڑھانے سمیت محکمہ تعلیم میں اصلاحات اور گڈ گورننس پر توجہ دی گئی۔
عام نشست پر شکست، مخصوص نشست سے واپسی
2026 کے عام انتخابات میں افتخار گیلانی نے ایل اے 29 مظفرآباد-3 سے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کی حیثیت سے انتخاب لڑا، تاہم وہ پیپلز پارٹی کے امیدوار سردار مختار احمد خان سے شکست کھا گئے۔ اس کے باوجود ان کا سیاسی سفر رکا نہیں۔
مسلم لیگ (ن) نے انہیں ٹیکنوکریٹ کی مخصوص نشست کے لیے امیدوار بنایا اور وہ 24 اگست کو 26 ووٹ حاصل کرکے کامیاب ہوئے، جبکہ پیپلز پارٹی کے امیدوار کو 12 ووٹ ملے۔ یوں عام نشست پر شکست کے چند ہی ہفتوں بعد وہ دوبارہ قانون ساز اسمبلی کا حصہ بن گئے۔
نامزدگی پر پارٹی کے اندر اختلاف
افتخار گیلانی کی وزارتِ عظمیٰ کے لیے نامزدگی نے مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر میں اختلافات کو بھی نمایاں کردیا تھا۔ پارٹی صدر شاہ غلام قادر اور سابق وزیراعظم راجا فاروق حیدر نے اس فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا اور اطلاعات کے مطابق دونوں نے ان کی حمایت نہ کرنے کا اعلان بھی کیا تھا۔
اس کے باوجود مسلم لیگ (ن) کی مرکزی قیادت نے افتخار گیلانی کو وزارتِ عظمیٰ کے لیے امیدوار برقرار رکھا۔ ان کی کامیابی کے بعد اب ان کے سامنے سب سے بڑا چیلنج اپنی جماعت کے اندر موجود اختلافات ختم کرکے تمام دھڑوں کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا۔
نئے وزیراعظم کو آزاد کشمیر میں ایکشن کمیٹی کے احتجاج، گڈ گورننس، مالی و انتظامی مسائل، تعلیم و صحت کے شعبوں میں بہتری، ترقیاتی منصوبوں کی رفتار اور سیاسی جماعتوں کے درمیان اتفاقِ رائے جیسے اہم معاملات کا بھی سامنا ہوگا۔
یوں افتخار گیلانی کا سیاسی سفر ایک ایسے موڑ پر پہنچا ہے جہاں عام انتخابی شکست، ٹیکنوکریٹ نشست سے واپسی اور وزارتِ عظمیٰ تک کا سفر محض چند ہفتوں میں طے ہوا ہے۔ اب اصل امتحان یہ ہوگا کہ وہ اس غیر معمولی سیاسی واپسی کو ایک مستحکم اور مؤثر حکومت میں کس طرح تبدیل کرتے ہیں۔







