وزیراعظم شہباز شریف سے سعودی عرب کے وزیر ماحولیات، پانی و زراعت انجینئر عبدالرحمن بن عبدالمحسن الفضلی نے وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات کی۔ ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات، زرعی پیداوار، پانی کے وسائل، غذائی تحفظ اور اقتصادی شراکت داری سمیت باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی وزیر اور ان کے وفد کا پاکستان آمد پر خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات محض سفارتی روابط تک محدود نہیں بلکہ دونوں برادر ممالک کے درمیان عوامی سطح پر بھی گہرے اور دیرینہ تعلقات قائم ہیں۔

وزیراعظم نے خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان سعودی عرب کو اپنا قابل اعتماد دوست اور اسٹریٹجک شراکت دار سمجھتا ہے، دونوں ممالک نے مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے اور اب وقت آگیا ہے کہ اس مضبوط تعلق کو اقتصادی تعاون اور سرمایہ کاری کے مزید وسیع مواقع میں تبدیل کیا جائے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اقتصادی تعاون کے فروغ کے وسیع امکانات موجود ہیں، بالخصوص زراعت، غذائی تحفظ، پانی کے بہتر انتظام، جدید زرعی ٹیکنالوجی اور زرعی مصنوعات کی تجارت میں دونوں ممالک ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

ملاقات کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان سے سعودی عرب کو زرعی مصنوعات کی برآمد کے حوالے سے جاری مثبت تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا، پاکستانی زرعی مصنوعات کے لیے سعودی مارکیٹ میں مزید مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تجارت میں اضافہ ہوگا۔

وزیراعظم نے زرعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور تحقیق و ترقی کو فروغ دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا، موسمیاتی تبدیلیوں، پانی کی کمی اور بڑھتی ہوئی غذائی ضروریات کے تناظر میں زرعی پیداوار میں اضافے کے لیے جدید طریقہ کار اپنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان میں پانی کے وسائل کے مؤثر استعمال، جدید آبپاشی نظام اور زرعی تحقیق کے شعبوں میں تعاون کے ذریعے پیداوار اور وسائل کے بہتر استعمال کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔

وزیراعظم نے اس موقع پر اعلان کیا کہ پاکستانی زرعی ماہرین کا ایک وفد جلد سعودی عرب کا دورہ کرے گا۔ وفد کے دورہ ریاض کے دوران سعودی حکام اور متعلقہ اداروں کے ساتھ زراعت، آبی وسائل، غذائی تحفظ، زرعی ٹیکنالوجی اور تحقیق سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے امکانات کا جائزہ لیا جائے گا۔

ملاقات میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ دونوں ممالک کے متعلقہ اداروں کے درمیان روابط کو مزید فعال بنایا جائے تاکہ طے پانے والے منصوبوں اور تعاون کو عملی شکل دی جا سکے۔

وزیراعظم نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان حال ہی میں طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس پیش رفت سے تینوں ممالک کے درمیان تعاون اور روابط مزید مضبوط ہوئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دفاعی اور اسٹریٹجک تعاون کے ساتھ اقتصادی شراکت داری کو بھی نئی بلندیوں تک پہنچانے کی ضرورت ہے تاکہ خطے میں امن، استحکام اور خوش حالی کے مشترکہ مقاصد کو آگے بڑھایا جا سکے۔

سعودی وزیر ماحولیات، پانی و زراعت انجینئر عبدالرحمن بن عبدالمحسن الفضلی نے وزیراعظم کی جانب سے پرتپاک استقبال اور مہمان نوازی پر شکریہ ادا کیا۔

سعودی وزیر نے زراعت، پانی کے وسائل اور غذائی تحفظ کے شعبوں میں پاکستان کے ساتھ تعاون مزید مضبوط کرنے کے سعودی عرب کے عزم کا اعادہ کیا۔

ملاقات میں اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ زرعی شعبے میں مشترکہ منصوبوں، جدید ٹیکنالوجی کے تبادلے، تحقیق و ترقی، پانی کے مؤثر استعمال اور زرعی تجارت کے فروغ سے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم کیا جا سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: سعودی عرب نے ہر مشکل اور آزمائش میں ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دیا ہے, وزیراعظم محمد شہباز شریف

دونوں جانب سے اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان موجود مضبوط سیاسی اور برادرانہ تعلقات کو مزید وسیع اقتصادی شراکت داری میں تبدیل کرنے کے لیے نجی شعبے اور متعلقہ اداروں کے درمیان رابطے بڑھائے جائیں گے۔

یاد رہے کہ آئندہ دورۂ ریاض سے دونوں ممالک کے درمیان زراعت اور پانی کے شعبوں میں تعاون کے نئے راستے تلاش کرنے میں مدد ملے گی، جبکہ زرعی مصنوعات کی باہمی تجارت میں اضافے کے امکانات بھی مزید واضح ہوں گے۔