وزیرِ پیٹرولیم نے کراچی کے دورے کے دوران مختلف آئل ریفائنریوں کی انتظامیہ سے الگ الگ ملاقاتیں کیں، جن میں ریفائنری اپ گریڈیشن منصوبوں، مالی و آپریشنل کارکردگی، توانائی کے تحفظ اور ملک کی بڑھتی ہوئی ایندھن کی ضروریات سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا۔
علی پرویز ملک کے مطابق پانچوں ریفائنریوں کے ساتھ معاہدوں پر دستخط آئندہ ماہ کے آغاز میں متوقع ہیں۔ ان معاہدوں پر عملدرآمد سے ملک کے ریفائننگ سیکٹر میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کا راستہ ہموار ہوگا۔
وزیرِ پیٹرولیم نے بتایا کہ ریفائنری اپ گریڈ پالیسی کے تحت ہونے والی سرمایہ کاری سے ملک کے پرانے ریفائننگ انفراسٹرکچر کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں مدد ملے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت ریفائنریوں کی اپ گریڈیشن کو توانائی کے شعبے میں ایک اہم ترجیح سمجھتی ہے، کیونکہ جدید اور مؤثر ریفائننگ صلاحیت ملکی ایندھن کی ضروریات پوری کرنے اور درآمدی انحصار کم کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔
کراچی میں اپنے دورے کے دوران وزیرِ پیٹرولیم نے پی اے آر سی او، پاکستان ریفائنری، اٹک ریفائنری، نیشنل ریفائنری اور سینرجیکو کی انتظامیہ سے ملاقاتیں کیں۔
ملاقاتوں میں براؤن فیلڈ ریفائنری اپ گریڈ پالیسی کے تحت طے کیے گئے اہداف، مجوزہ سرمایہ کاری اور منصوبوں پر عملدرآمد کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔
علی پرویز ملک نے کہا کہ ریفائنریوں کو جدید بنانے کا بنیادی مقصد ملکی ریفائننگ صلاحیت کو بہتر بنانا اور عالمی معیار کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی پیداوار میں اضافہ کرنا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اپ گریڈیشن کے بعد ریفائنریاں یورو فائیو معیار کے مطابق پٹرولیم مصنوعات تیار کرنے کی صلاحیت حاصل کرسکیں گی۔
وزیرِ پیٹرولیم کے مطابق جدید ٹیکنالوجی سے لیس ریفائنریوں کے ذریعے پٹرول اور ڈیزل کی مقامی پیداوار میں اضافہ ہوگا، جس سے مستقبل میں ان مصنوعات کی درآمد پر انحصار کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ درآمدی ایندھن پر انحصار کم ہونے سے ملک کے قیمتی زرمبادلہ کی بچت بھی ممکن ہوگی، جبکہ مقامی ریفائننگ صنعت کو فروغ ملنے سے توانائی کے شعبے میں خود انحصاری کی جانب پیش رفت ہوگی۔
وزیرِ پیٹرولیم نے کہا کہ ملک کے ریفائننگ شعبے کو طویل المدتی بنیادوں پر مستحکم رکھنے کے لیے موجودہ ریفائنریوں کو جدید بنانا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت ریفائنری اپ گریڈ پالیسی پر عملدرآمد میں درپیش رکاوٹوں کو دور کرنے اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے کے لیے ریفائنری مالکان اور انتظامیہ کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔
علی پرویز ملک نے ریفائنری انتظامیہ کو یقین دہانی کرائی کہ حکومت منصوبوں کی تکمیل میں ہر ممکن سہولت فراہم کرے گی اور پالیسی پر عملدرآمد کے دوران سامنے آنے والے مسائل کو متعلقہ فورمز پر حل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
وزیرِ پیٹرولیم کا کہنا تھا کہ مقامی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی پیداوار میں اضافے سے نہ صرف ملک کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں مدد ملے گی بلکہ درآمدی ایندھن پر اٹھنے والے اخراجات میں بھی کمی لائی جاسکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جدید ریفائنریاں زیادہ مؤثر انداز میں خام تیل کو مختلف پٹرولیم مصنوعات میں تبدیل کرسکیں گی، جس سے ملکی مارکیٹ کی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔
ان کے مطابق ریفائنری اپ گریڈیشن کے منصوبے ملکی توانائی کے تحفظ، صنعتی سرگرمیوں کے فروغ اور مستقبل کی ایندھن ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اہم ہیں۔
وزیرِ پیٹرولیم نے کہا کہ حکومت چاہتی ہے کہ ریفائنری سیکٹر میں نئی سرمایہ کاری آئے، موجودہ پیداواری صلاحیت کو بہتر بنایا جائے اور ملک میں ایندھن کی فراہمی کے نظام کو مزید مضبوط کیا جائے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ پانچوں ریفائنریوں کے ساتھ معاہدوں پر دستخط کے بعد اپ گریڈیشن منصوبوں پر عملی کام میں مزید تیزی آئے گی اور اربوں ڈالر کی متوقع سرمایہ کاری سے ملک کے توانائی کے شعبے میں ایک اہم تبدیلی کا آغاز ہوگا۔







