لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پاکستان کے عوام اس وقت شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، مہنگائی، بجلی کے بھاری بل، لوڈشیڈنگ اور پٹرولیم مصنوعات پر عائد مختلف ٹیکسز نے عام آدمی کی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے۔
امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ لاہور، پشاور اور کراچی سمیت مختلف شہروں میں احتجاجی دھرنے جاری ہیں اور کئی مقامات پر احتجاجی کیمپ بھی قائم کیے جاچکے ہیں۔ پنجاب کے سیکڑوں مقامات پر بھی دھرنے اور احتجاجی کیمپ لگائے جا رہے ہیں جبکہ حیدرآباد میں بھی احتجاجی سرگرمیوں کا آغاز ہوچکا ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے اعلان کیا کہ 3 ستمبر کو ملک گیر ہڑتال کی جائے گی، جس کے لیے مختلف کمیٹیاں تشکیل دے دی گئی ہیں، تاجروں اور صنعتکاروں سے بھی رابطے کیے جائیں گے تاکہ ہڑتال کو مؤثر اور کامیاب بنایا جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ آج فیصل آباد میں جلسہ عام ہوگا جبکہ 30 اگست کو راولپنڈی میں بڑا جلسہ منعقد کیا جائے گا، 31 اگست کو پشاور میں جاری دھرنا بھی جلسہ عام میں تبدیل ہوجائے گا، جبکہ کراچی کے دھرنے کو بھی بڑے عوامی اجتماع میں تبدیل کرنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ کوئٹہ میں بھی احتجاجی دھرنے کا آغاز کیا جائے گا اور بلوچستان کے عوام کو درپیش مسائل اور ان کے ممکنہ حل پر بات چیت کی جائے گی، سوات میں بھی جلسہ عام منعقد کیا جائے گا۔
حافظ نعیم الرحمان نے حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ عوامی تحریک اب رکنے والی نہیں، حکومت کو مطالبات تسلیم کرکے عوام کو ریلیف دینا ہوگا۔
امیر جماعت اسلامی نے بجلی کی لوڈشیڈنگ اور مہنگے بجلی بلوں پر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوچکا ہے، اس کے باوجود عوام کو لوڈشیڈنگ کا سامنا ہے۔
حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ عوام سے کیپسٹی پیمنٹ کی مد میں بھی بھاری رقوم وصول کی جاتی ہیں، لیکن اس کے باوجود بجلی کی فراہمی کا مسئلہ حل نہیں ہوسکا۔
انہوں نے وزیراعظم سے سوال کیا کہ اگر ملک میں بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے تو پھر لوڈشیڈنگ کیوں جاری ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ عوام سے اربوں روپے وصول کیے جانے کے باوجود بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں مؤثر انداز میں کیوں کام نہیں کررہیں، حکومت کو اس کا جواب دینا چاہیے۔
حافظ نعیم الرحمان نے مطالبہ کیا کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کیا جائے اور عوام پر عائد غیر ضروری بوجھ کم کیا جائے۔ انہوں نے پٹرولیم لیوی کے خاتمے کا بھی مطالبہ کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی کی احتجاجی تحریک کے دباؤ کے نتیجے میں ڈیزل کی قیمت میں کمی کی گئی، تاہم عوام کو مزید ریلیف دینے کی ضرورت ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے حکمران طبقے اور بیوروکریسی کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ملک کے ایک محدود طبقے کو مراعات حاصل ہیں جبکہ عام شہری بنیادی سہولتوں کے لیے پریشان ہیں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکمران طبقہ عوام کے مسائل پر توجہ دینے کے بجائے اپنے مفادات کے تحفظ میں مصروف ہے، ملک میں تعلیم، صحت اور روزگار کے مسائل موجود ہیں اور حکمران ان بنیادی مسائل کا مؤثر حل فراہم نہیں کرسکے۔
امیر جماعت اسلامی نے پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن اور ایم کیو ایم پر بھی تنقید کی اور الزام لگایا کہ ان جماعتوں نے مل کر ملک کے سیاسی اور انتظامی نظام کو مشکلات سے دوچار کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتیں عوام کے سامنے ایک دوسرے سے اختلاف کرتی ہیں لیکن ان کے بقول اقتدار اور مراعات کے معاملے میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑی نظر آتی ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے پمز اسپتال میں پیش آنے والے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صرف ایک افسر کو معطل کرنا کافی نہیں، واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر تحقیقات نہیں کی گئیں تو سوال اٹھتا ہے کہ متعلقہ سیکریٹری کو معطل کرنے کی ضرورت ہی کیوں پیش آئی۔ انہوں نے دیگر ذمہ دار افراد کے خلاف بھی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ذمہ داروں کا تعین تحقیقات کے ذریعے ہونا چاہیے اور کسی بھی معاملے کو محض ایک فرد کو معطل کرکے ختم نہیں کیا جاسکتا۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی کی دھرنا تحریک جاری رہے گی اور ملک گیر ہڑتال کے بعد احتجاجی تحریک کے اگلے مرحلے کا اعلان کیا جائے گا۔
ان کے مطابق جماعت اسلامی جلد اسلام آباد لانگ مارچ کی کال بھی دے گی۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج کا مقصد عوام کو درپیش مسائل اجاگر کرنا اور حکومت کو مطالبات تسلیم کرنے پر مجبور کرنا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ جماعت اسلامی کے علاوہ کوئی سیاسی جماعت عوام کے حقیقی مسائل کو مؤثر انداز میں نہیں اٹھا رہی۔
امیر جماعت اسلامی نے حکومتی عہدیداروں اور اشرافیہ کو حاصل سہولتوں پر بھی سوال اٹھائے، ایک طرف عام شہری بجلی کے بل، پٹرول اور روزمرہ اشیا کی قیمتوں سے پریشان ہیں تو دوسری طرف حکمران طبقے کو وسیع مراعات حاصل ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے وزیراعلیٰ پنجاب پر بھی تنقید کرتے ہوئے ایک سرکاری جہاز کی خریداری کا حوالہ دیا اور کہا کہ ایسے اخراجات پر عوام سے جواب طلبی ہونی چاہیے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اشرافیہ عوام کے وسائل سے مہنگی گاڑیاں اور دیگر سہولتیں استعمال کرتی ہے جبکہ عام آدمی بنیادی







