میرے زیرِ پیروی ایک مقدمہ اسی حقیقت کی ایک واضح مثال ہے۔ فریقین کے درمیان ایک تحریری معاہدہ موجود تھا اور اسی معاہدے سے متعلق تنازعات پہلے ہی سول عدالتوں میں زیرِ سماعت تھے۔ اس کے باوجود مخالف فریق کی جانب سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 406 کے تحت ایف آئی آر درج کرا دی گئی۔ میرے لیے سب سے بنیادی سوال یہی تھا کہ جب فریقین کے درمیان معاہدہ موجود ہے، اس سے پیدا ہونے والے اختلافات کے لیے دیوانی عدالتیں پہلے ہی موجود ہیں اور معاملہ وہاں زیرِ سماعت ہے تو پھر اسی تنازع کو فوجداری قانون کے دائرے میں لانے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

یہ سوال صرف میرے موکل تک محدود نہیں۔ پاکستان میں ہزاروں شہری کاروباری معاملات، جائیداد، لین دین اور معاہدوں کے تنازعات میں فریق بنتے ہیں۔ جب ان میں سے کسی تنازع کو فوجداری مقدمے میں تبدیل کیا جاتا ہے تو معاملہ صرف قانونی نوعیت کی تبدیلی تک محدود نہیں رہتا۔ ایف آئی آر کے ساتھ گرفتاری کا خوف آتا ہے، تھانے کے چکر شروع ہوتے ہیں، وکیل کی ضرورت پڑتی ہے، ضمانت کرانا پڑتی ہے اور شہری کو اپنے معمول کے کاروبار اور زندگی سے وقت نکال کر اپنے دفاع میں لگانا پڑتا ہے۔

ایک عام آدمی کے لیے فوجداری مقدمہ خود ایک دباؤ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر کسی شخص کے خلاف واقعی جرم کے شواہد موجود ہوں تو قانون کو ضرور حرکت میں آنا چاہیے، لیکن اگر بنیادی تنازع کسی معاہدے، ادائیگی، کاروباری لین دین یا کسی دوسرے دیوانی حق سے متعلق ہو تو محض دباؤ پیدا کرنے کے لیے اسے فوجداری مقدمے کا رنگ دینا ایک انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے۔

اسی مقدمے میں جب میں نے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا اور ایف آئی آر کے اخراج کے لیے Quashment Petition دائر کی تو معزز جسٹس طارق سلیم شیخ کی عدالت میں معاملہ زیرِ سماعت آیا۔ عدالت نے متعلقہ پولیس حکام، SHO، تفتیشی افسر، SP Legal/Investigation اور Law Officer کو طلب کیا اور بنیادی سوال یہ اٹھایا کہ جب فریقین کے درمیان تحریری معاہدہ موجود ہے اور اسی معاملے سے متعلق سول مقدمات پہلے ہی عدالتوں میں زیرِ سماعت ہیں تو دفعہ 406 کے تحت فوجداری کارروائی کی قانونی بنیاد کیا ہے؟

میرے نزدیک عدالت کا یہ سوال اس مقدمے کا سب سے اہم پہلو تھا، کیونکہ اس نے معاملے کو صرف ایف آئی آر کے متن تک محدود نہیں رکھا بلکہ اس کے پس منظر کو بھی دیکھا۔ عدالتی کارروائی کے نتیجے میں متعلقہ تفتیشی افسر اور SHO کو معطل کرکے ان کے عہدوں سے تبدیل کیا گیا۔

عدالتی کارروائی کے دوران متعلقہ تفتیشی افسر کو معطل جبکہ SHO کو تبدیل بھی کرنا پڑا۔ اپنی ایف آئی آر اور اپنے پولیس افسر کا دفاع کرنے کی کوشش میں پولیس کو بالآخر دفعہ 406 پاکستان پینل کوڈ خارج کرکے اس کی جگہ دفعات 403 اور 420 پی پی سی شامل کرنا پڑیں۔ اسی مرحلے پر موکل کے قانونی حقوق کا تحفظ کرتے ہوئے قبل از گرفتاری ضمانت کنفرم کروانے میں کامیابی حاصل ہوئی اور قانون کے مطابق تازہ چارہ جوئی کے حق کے ساتھ پرانی رِٹ پٹیشن واپس لینے کا فیصلہ کیا گیا۔

لیکن اس مقدمے نے پولیس کے ایک اور پہلو کو بھی سامنے لایا۔ معاملہ ایک پولیس فورم سے دوسرے فورم تک منتقل ہوتا رہا۔ پہلے ماڈل ٹاؤن لاہور اور گلبرگ لاہور میں درخواست پر انکوائری ہوئی اور معاملہ داخلِ دفتر کردیا گیا۔ اس کے بعد یہی معاملہ شیخوپورہ منتقل ہوا۔ یہاں سوال یہ تھا کہ اگر ایک مجاز افسر تمام ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد کسی معاملے کو داخلِ دفتر کر چکا ہے تو کیا صرف ایک فریق کے فیصلے سے مطمئن نہ ہونے کی وجہ سے اسی معاملے کو نئے افسر یا نئے فورم کے ذریعے دوبارہ کھولا جا سکتا ہے؟

میں نے تبدیلیِ تفتیش کی درخواست کے ذریعے معاہدے، سول عدالتوں میں زیرِ سماعت مقدمات اور متعلقہ دستاویزی ریکارڈ مجاز اتھارٹی کے سامنے پیش کیا۔ اس کے بعد ایس پی شیخوپورہ نے بھی معاملے کا جائزہ لے کر درخواست داخلِ دفتر کردی۔

یہ صورتحال میرے لیے صرف ایک مقدمے کی کارروائی نہیں تھی بلکہ پولیس کے اس طریقۂ کار پر بھی سوال تھا جس کا سامنا عام شہری اکثر کرتا ہے۔ جب ایک شخص کو ایک دفتر سے دوسرے دفتر اور ایک افسر سے دوسرے افسر کے پاس بھیجا جاتا ہے تو بظاہر یہ سب قانونی کارروائی کا حصہ محسوس ہوتا ہے، لیکن شہری کے لیے ہر نئی انکوائری ایک نئی پریشانی، نیا خرچ اور نئی ذہنی اذیت ہوتی ہے۔

اس مقدمے میں ایک اور مرحلے پر بعض جونیئر افسران کی جانب سے دوبارہ تفتیش کی کوشش کی گئی، حالانکہ مجاز اتھارٹی پہلے ہی معاملے کا جائزہ لے چکی تھی۔ یہی وہ مقام تھا جہاں یہ سوال مزید اہم ہوگیا کہ ادارہ جاتی فیصلوں کا کوئی تسلسل بھی ہونا چاہیے یا نہیں۔ اگر ہر بار کسی فریق کی خواہش پر ایک ہی معاملہ دوبارہ کھولا جائے تو پھر کسی شہری کو یہ یقین کیسے ہوگا کہ ایک مجاز اتھارٹی کا فیصلہ واقعی معاملے کو ختم کر سکتا ہے؟

بعد میں پولیس نے دفعہ 406 ختم کرکے دفعات 403 اور 420 پاکستان پینل کوڈ شامل کیں۔ اس تبدیلی کے بعد بھی میرے موکل کے قانونی حقوق کا تحفظ کیا گیا، قبل از گرفتاری ضمانت کنفرم ہوئی اور تازہ قانونی چارہ جوئی کے حق کے ساتھ آئندہ کارروائی کا راستہ اختیار کیا گیا۔ یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ کسی مقدمے میں دفعات تبدیل ہونا بذاتِ خود جرم ثابت نہیں کرتا۔ ہر فوجداری دفعہ کے اپنے قانونی تقاضے اور شواہد ہوتے ہیں، جنہیں قانون کے مطابق ثابت کرنا ضروری ہے۔

اس پورے معاملے نے مجھے ایک بنیادی حقیقت پر دوبارہ سوچنے پر مجبور کیا: پولیس کے پاس ریاستی اختیار ہے اور عام شہری کے پاس اس اختیار کا مقابلہ کرنے کے لیے محدود وسائل۔ اسی لیے پولیس کی ہر کارروائی شہری کی زندگی پر براہِ راست اثر ڈالتی ہے۔ ایک ایف آئی آر کسی کے کاروبار کو متاثر کر سکتی ہے، گرفتاری کا خوف خاندان کو ذہنی اذیت میں مبتلا کرسکتا ہے، اور طویل قانونی کارروائی ایک ایسے شخص کو مالی طور پر کمزور کرسکتی ہے جو شاید آخر میں بے قصور ثابت ہو۔

میرا مقصد یہ کہنا نہیں کہ ہر دیوانی تنازع کو فوجداری مقدمہ نہیں بنایا جا سکتا۔ اگر کسی معاملے میں واقعی جرم کے تمام قانونی اجزا موجود ہوں تو فوجداری قانون کا استعمال بالکل جائز ہے۔ لیکن مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب فوجداری قانون کو کسی نجی تنازع میں دباؤ پیدا کرنے کے آلے کے طور پر استعمال کیا جائے یا جب ایک ہی معاملے کو مختلف پولیس فورمز پر بار بار اٹھا کر شہری کو مسلسل قانونی دباؤ میں رکھا جائے۔

اس مقدمے میں عدالت کی مداخلت نے یہی اہم اصول سامنے رکھا کہ پولیس کا اختیار بھی قانون کے تابع ہے۔ وکیل کا کام بھی یہی ہے کہ وہ حقائق، دستاویزات اور قانون عدالت کے سامنے رکھے تاکہ معاملے کی اصل نوعیت واضح ہو سکے۔ میرے لیے اس مقدمے کی اصل اہمیت کسی ایک ایف آئی آر یا کسی ایک قانونی دفعہ تک محدود نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہمارا قانونی نظام شہری کو صرف جرم سے تحفظ دیتا ہے یا اسے قانون کے غلط استعمال سے بھی تحفظ دے سکتا ہے؟

قانون کی حکمرانی صرف مجرم کو سزا دینے کا نام نہیں۔ قانون کی حکمرانی یہ بھی ہے کہ کسی بے قصور شہری کو غیر ضروری فوجداری کارروائی، پولیس کے اختیارات کے غلط استعمال اور بار بار کی قانونی اذیت سے محفوظ رکھا جائے۔ ریاست نے پولیس کو شہریوں کے تحفظ کے لیے اختیار دیا ہے، کسی نجی تنازع کو دباؤ کے ذریعے حل کرانے کے لیے نہیں۔

اگر ایک شہری کو ایک ہی معاملے میں بار بار مختلف پولیس دفاتر کے چکر لگانے پڑیں، ایک مجاز اتھارٹی کے فیصلے کے باوجود معاملہ دوبارہ کھولا جائے اور اسے ہر مرتبہ اپنے دفاع کے لیے نئی قانونی جنگ لڑنا پڑے تو یہ صرف ایک مقدمے کا مسئلہ نہیں رہتا۔ یہ پورے نظامِ انصاف کے لیے ایک سوال بن جاتا ہے۔

اور شاید ہمیں یہی سوال زیادہ سنجیدگی سے پوچھنے کی ضرورت ہے کہ اگر قانون کا عمل ہی کسی شہری کے لیے سزا بن جائے تو پھر قانون اسے تحفظ کب دے گا؟

تحریر: رانا محمد اشعر جلال، ایڈووکیٹ ہائی کورٹ
نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر