سیالکوٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ انڈیا مبینہ طور پر فالس فلیگ آپریشن کی تیاری کر رہا ہے اور اپنے ہی لوگوں یا انڈین جیلوں میں قید پاکستانیوں کی لاشیں پھینک کر دہشت گردی کا ڈرامہ رچانا چاہتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ایئر فورس پہلے بھی بھرپور صلاحیت کا مظاہرہ کر چکی ہے اور اگر اس بار کوئی اشتعال انگیزی ہوئی تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔

وزیرِ دفاع کا کہنا تھا کہ خطے کی صورتحال نہایت حساس مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جب کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ یا مذاکرات کا عمل بھی ایک اہم دور سے گزر رہا ہے، جس پر فی الحال تبصرہ کرنا مناسب نہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اس معاملے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے اور امید ہے کہ یہ کوششیں کامیاب ہوں گی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے لیے مسلسل کوششیں کر رہا ہے اور تمام تنازعات کا حل مکالمے کے ذریعے نکالنے پر یقین رکھتا ہے۔

خواجہ آصف نے مزید کہا کہ ہم ایک نبی ﷺ کے امتی ہیں، اللہ ہمیں تفرقے سے نجات دے اور ہمیں صلح و صفائی کی کوششوں میں کامیاب کرے۔

انہوں نے انڈیا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں بھی اس قسم کے اقدامات سے اسے عالمی سطح پر سبکی کا سامنا کرنا پڑا اور اس بار بھی اگر ایسی کوئی کوشش کی گئی تو دنیا اسے مسترد کر دے گی۔

وزیرِ دفاع نے کہا کہ اگرچہ انڈیا رقبے، معیشت اور فوجی طاقت کے لحاظ سے بڑا ملک ہے، تاہم پاکستان اپنی خودمختاری اور دفاع کے لیے ہر حد تک جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔