پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے موجودہ سیاسی صورتِ حال پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کاروبار کی دنیا نہیں جہاں دو میں سے ایک کو مائنس کر دیا جائے تو دوسرا چل پڑے۔ اگر ایک کو مائنس کیا گیا تو اس کے اثرات پوری سیاسی سسٹم کو متاثر کریں گے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہنوں پر واٹر کینن کا استعمال کیا گیا اور ملاقاتوں کے لیے آنے والوں پر بھی طاقت کا استعمال ہو رہا ہے۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ عمران خان سے ملاقاتوں پر پابندی کا بہانہ ان کی سوشل میڈیا پوسٹس کو بنایا جا رہا ہے، جب کہ سوال یہ ہے کہ بشریٰ بی بی کی فیملی پریس کانفرنسز کر رہی ہے تو انہیں ملاقاتوں کی اجازت کیوں دی جا رہی ہے؟
پی ٹی آئی چیئرمین نے خبردار کیا کہ اگر اسی طرزِ عمل کو جاری رکھا گیا تو نتائج کسی کے قابو میں نہیں رہیں گے۔ ہم سسٹم کا حصہ اس لیے ہیں کہ جمہوریت چلتی رہے، ہم تین کروڑ عوام کی نمائندگی کر رہے ہیں۔
بیرسٹر گوہر نے صوبائی اسمبلی میں منظور ہونے والی حالیہ قرارداد پر بھی تنقید کی اور کہا کہ اس طرح وفاق کی اکائیوں کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: اسلامی دنیا کو تقسیم کردیا گیا، امت گروہوں میں بٹ چکی ہے، حافظ نعیم الرحمان
چیئرمین پی ٹی آئی نے سوال اٹھایا کہ حکومت آخر پی ٹی آئی پر کس قسم کی پابندی لگانے جا رہی ہے، جب کہ پارٹی کا انتخابی سرٹیفیکیٹ ابھی تک تسلیم تک نہیں کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ اگر حالات یہی رہے تو ایک مہینے کے اندر بھی کنٹرول ہاتھ سے نکل سکتا ہے۔







