اپنے بیان میں شرجیل انعام میمن نے کہا کہ سیاسی احتجاج ہر جماعت کا جمہوری حق ہے، جماعت اسلامی کو بھی پرامن احتجاج کا مکمل حق حاصل ہے، تاہم احتجاج کی آڑ میں شہریوں کو مشکلات سے دوچار کرنا، عوامی املاک کو نقصان پہنچانا اور شہر کا امن خراب کرنا کسی صورت قابل قبول نہیں۔

سندھ کے سینئر وزیر کا کہنا تھا کہ سیاسی مقاصد کے لیے شہریوں کی زندگی اجیرن بنانا اور کراچی میں بے امنی پیدا کرنا انتہائی افسوسناک ہے۔ احتجاج کے نام پر شہر کو یرغمال بنانے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی اور شہریوں کے معمولات زندگی متاثر کرنے کی کوششوں سے سختی سے نمٹا جائے گا۔

شرجیل میمن نے کہا کہ احتجاج کی آڑ میں شہریوں میں خوف و ہراس پھیلانا محض احتجاج نہیں بلکہ قانون کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔ جو عناصر آگ لگانے، سڑکیں بند کرنے، توڑ پھوڑ یا سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانے میں ملوث ہوں گے، انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

انہوں نے واضح کیا کہ ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والوں کے ساتھ قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی اور کسی کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ سیاسی احتجاج کی آڑ میں شہریوں کے جان و مال یا املاک کو نقصان پہنچائے۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ کراچی ایک بڑا تجارتی اور معاشی مرکز ہے، اس لیے سڑکوں کی بندش، کاروباری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور امن و امان کی صورتحال خراب ہونے سے عام شہریوں کے ساتھ تاجر برادری بھی متاثر ہوتی ہے۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ شہریوں کو پرامن ماحول فراہم کرے اور ان کے معمولات زندگی کو بلاوجہ متاثر نہ ہونے دے۔

شرجیل انعام میمن نے مزید کہا کہ سندھ حکومت شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو اولین ترجیح دیتی ہے اور اس معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، کراچی کو دوبارہ بدامنی کی طرف دھکیلنے یا احتجاج کے نام پر شہر کو یرغمال بنانے کی کوشش کامیاب نہیں ہونے دی جائے گی۔

سندھ کے سینئر وزیر نے کہا کہ پرامن احتجاج کرنے والوں کے حقوق کا احترام کیا جائے گا، تاہم قانون ہاتھ میں لینے، جلاؤ گھیراؤ اور عوامی املاک کو نقصان پہنچانے والے عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی