وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سپر مارکیٹ، آبپارہ، جی ایٹ، جی نائن سمیت مختلف علاقوں کے کاروباری مراکز میں دکانیں اور مارکیٹیں بند ہیں۔ تاجروں اور شہریوں نے جماعت اسلامی کی اپیل پر اپنے کاروبار بند کرکے ہڑتال میں شرکت کی۔
تاجروں کا کہنا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور ان پر عائد لیوی کے باعث کاروباری سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ عام شہری بھی شدید متاثر ہو رہے ہیں،حکومت پٹرولیم لیوی میں کمی یا اس کا خاتمہ کرے تاکہ عوام کو بڑھتی ہوئی مہنگائی سے ریلیف مل سکے۔
لاہور میں بھی جماعت اسلامی کی ہڑتال کی کال پر مختلف مارکیٹوں میں شٹر ڈاؤن رہا۔ عابد مارکیٹ، ہال روڈ، نسبت روڈ مارکیٹ اور اچھرہ بازار سمیت متعدد تجارتی مراکز مکمل طور پر بند رہے۔
اسی طرح کوئنز روڈ، فیروزپور روڈ اور مال روڈ سے منسلک مختلف مارکیٹوں میں بھی کاروباری سرگرمیاں معطل رہیں۔ دکانیں بند ہونے کے باعث معمول کی تجارتی سرگرمیاں متاثر ہوئیں، جبکہ بعض علاقوں میں سڑکوں اور بازاروں میں معمول سے کم رش دیکھا گیا۔
جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ ہڑتال کا مقصد عوام پر عائد معاشی بوجھ کے خلاف آواز بلند کرنا اور حکومت سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا مطالبہ کرنا ہے۔
ہڑتال کے شرکا اور تاجروں نے مطالبہ کیا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی ختم یا کم کی جائے، ایندھن کی قیمتوں میں کمی لائی جائے اور عوام کو مہنگائی سے ریلیف فراہم کیا جائے۔
جماعت اسلامی کے رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا براہِ راست اثر ٹرانسپورٹ، اشیائے خورونوش اور دیگر ضروریاتِ زندگی کی قیمتوں پر پڑتا ہے، اس لیے حکومت کو فوری طور پر عوامی مطالبات پر توجہ دینی چاہیے۔
اسلام آباد اور لاہور کے علاوہ ملک کے دیگر شہروں میں بھی جماعت اسلامی کی ہڑتال کی کال پر کاروباری سرگرمیوں کی صورتحال مختلف رہی، جبکہ متعلقہ انتظامیہ کی جانب سے صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے۔
ادھر لاہور میں جماعت اسلامی کی ہڑتال کے دوران احتجاجی ریلی بھی نکالی گئی، جہاں پولیس اور جماعت اسلامی کے کارکنوں کے درمیان کشیدگی پیدا ہوگئی۔
جماعت اسلامی کے مطابق کارکن اپنے مطالبات کے حق میں پرامن احتجاج کر رہے تھے کہ پولیس نے ریلی کے شرکا کو روکنے اور بعض کارکنوں کو حراست میں لینے کی کوشش کی۔
جماعت اسلامی نے الزام عائد کیا کہ پولیس نے پرامن کارکنوں کے خلاف طاقت کا استعمال کیا، جس کے باعث موقع پر صورتحال کشیدہ ہوگئی۔ کارکنوں نے پولیس کی جانب سے حراست میں لیے گئے ساتھیوں کی رہائی کے لیے احتجاج کیا۔
جماعت اسلامی کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے کوشش کرکے حراست میں لیے گئے کارکنوں کو رہا کروا لیا، جس کے بعد ریلی کے شرکا دوبارہ احتجاج میں شامل ہوگئے۔
جماعت اسلامی کے رہنماؤں نے پولیس کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پرامن احتجاج کرنا ہر شہری کا آئینی حق ہے، حکومت کو عوامی مطالبات سننے کے بجائے کارکنوں کو گرفتار کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔
جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی کے خاتمے، ایندھن کی قیمتوں میں کمی اور عوام کو معاشی ریلیف دینے کے مطالبات پر احتجاج جاری رہے گا۔
دوسری جانب چارسدہ میں بھی جماعت اسلامی کی اپیل پر پٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی، مہنگی بجلی اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی۔
جماعت اسلامی کے مطابق حافظ نعیم الرحمان کی ہدایت پر ہونے والی ہڑتال کے دوران چارسدہ کی تمام چھوٹی بڑی مارکیٹیں مکمل طور پر بند رہیں، جبکہ کاروباری سرگرمیاں معطل رہیں۔
جماعت اسلامی چارسدہ کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ہڑتال میں تاجر برادری کی جانب سے بھرپور تعاون کیا گیا اور شہر کی مختلف تجارتی تنظیموں نے جماعت اسلامی کے احتجاج کی حمایت کی۔
جماعت اسلامی کے مقامی رہنماؤں نے ہڑتال میں تعاون کرنے پر چارسدہ کی تینوں تاجر تنظیموں اور کاروباری برادری کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ عوام اور تاجروں نے مہنگائی اور اضافی ٹیکسوں کے خلاف اپنے مؤقف کا اظہار کیا ہے۔
جماعت اسلامی کا مطالبہ ہے کہ پٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی ختم یا کم کی جائے، بجلی کی قیمتوں میں کمی لائی جائے اور مہنگائی کے خاتمے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔
جماعت اسلامی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ عوام پر ٹیکسوں اور مہنگائی کا مسلسل بوجھ ناقابل برداشت ہوچکا ہے، حکومت کو احتجاج اور مطالبات کا نوٹس لیتے ہوئے عوام کو فوری ریلیف فراہم کرنا چاہیے۔







