نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر کے مطابق شمالی علاقوں میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے، لینڈ سلائیڈنگ اور طغیانی کے خدشات کے باعث متعلقہ اداروں کو پیشگی اقدامات یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

این ڈی ایم اے اور محکمہ موسمیات کے مطابق گلگت بلتستان کے غذر، ہنزہ، نگر، شگر، گلگت، روندو، دیامر، استور، اسکردو، گانچھے اور کھرمنگ کے مختلف علاقوں کو حساس قرار دیا گیا ہے، جبکہ آزاد کشمیر کی وادی نیلم اور گردونواح کے ندی نالوں میں بھی ممکنہ طغیانی کے خطرے کے پیش نظر نگرانی بڑھا دی گئی ہے۔

خیبر پختونخوا کے پہاڑی علاقوں میں چترال، اپر دیر، لوئر دیر، سوات، شانگلہ اور کوہستان بھی حساس علاقوں میں شامل ہیں، جہاں شدید بارشوں کے نتیجے میں اچانک سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور سڑکوں کی بندش کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

ادھر اسلام آباد اور راولپنڈی سمیت بالائی پنجاب میں بھی بارشوں کا سلسلہ جاری ہے۔ مسلسل بارش اور تیز ہواؤں کے باعث اسلام آباد کے بعض نشیبی علاقوں اور اہم شاہراہوں پر پانی جمع ہونے سے ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق اسلام آباد، راولپنڈی، اٹک، چکوال اور جہلم میں 5 ستمبر تک وقفے وقفے سے تیز بارشوں کا امکان ہے، جبکہ مالاکنڈ اور بالائی خیبر پختونخوا کے دیگر علاقوں کے لیے بھی موسمی وارننگ جاری کی گئی ہے۔

حکام نے گلگت بلتستان، سوات اور مری کا رخ کرنے والے سیاحوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ شہریوں سے کہا گیا ہے کہ پہاڑی علاقوں کا سفر کرنے سے پہلے مقامی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں سے موسم اور سڑکوں کی صورتحال کے بارے میں معلومات ضرور حاصل کریں۔

ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے حساس علاقوں میں امدادی ٹیموں، بھاری مشینری اور ضروری ادویات کی دستیابی یقینی بنانے کے اقدامات کیے گئے ہیں، تاکہ لینڈ سلائیڈنگ یا سڑکیں بند ہونے کی صورت میں امدادی سرگرمیاں فوری شروع کی جاسکیں۔

یاد رہے کہ غیر معمولی گرمی کے باعث گلیشیئرز کے پگھلنے کی رفتار بڑھ سکتی ہے، جبکہ شدید بارشوں کے ساتھ مل کر گلیشیائی جھیلوں میں پانی کی سطح تیزی سے بلند ہونے سے جھیلوں کے پھٹنے یا اچانک سیلاب کا خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔

این ڈی ایم اے اور محکمہ موسمیات کی جانب سے شہریوں اور مقامی انتظامیہ کو صورتحال پر مسلسل نظر رکھنے، خطرناک ندی نالوں اور دریاؤں کے قریب غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کرنے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری طور پر محفوظ مقامات کی جانب منتقل ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔