مذاکرات کے لیے جماعت اسلامی کی جانب سے نائب امیر لیاقت بلوچ قیادت کررہے ہیں، جبکہ حکومتی وفد کی سربراہی وفاقی وزیر احسن اقبال کررہے ہیں۔ حکومتی ٹیم میں سینیٹر رانا ثناء اللہ، وفاقی وزیر علی پرویز ملک اور بلال کیانی بھی شامل ہیں، متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران بھی مذاکرات میں شامل ہیں۔

حکومتی وفد جماعت اسلامی کے مطالبات کے حوالے سے حکومت کی جانب سے کیے گئے اقدامات اور ممکنہ تجاویز پر بریفنگ دے گا۔ مذاکرات میں پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی، مہنگائی، بجلی کے نرخ، عوام پر معاشی دباؤ اور دیگر مطالبات پر بات چیت متوقع ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں فریقین کے درمیان ملاقات آج سہ پہر 3 بجے منصورہ میں ہوگی، جسے موجودہ صورتحال میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ مذاکرات کا بنیادی مقصد جماعت اسلامی کے احتجاجی دھرنے کے معاملے کا سیاسی اور مذاکراتی حل تلاش کرنا ہے۔

مذاکرات سے قبل وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ حکومتی کمیٹی مکمل نیک نیتی کے ساتھ منصورہ جا رہی ہے، ملک کو اس وقت امن، سیاسی استحکام اور معاشی بہتری کی ضرورت ہے، اس لیے اختلافات کو سڑکوں پر لے جانے کے بجائے مذاکرات کی میز پر حل کرنا زیادہ مناسب ہے۔

احسن اقبال نے کہا کہ حکومت جماعت اسلامی کے مطالبات کو سنجیدگی سے سننے اور قابلِ عمل تجاویز پر غور کرنے کے لیے تیار ہے، موجودہ حالات میں تمام سیاسی قوتوں کو قومی مفاد کو ترجیح دیتے ہوئے مسائل کے حل کے لیے بات چیت کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔

دوسری جانب جماعت اسلامی کی قیادت کا مؤقف ہے کہ احتجاج عوامی مسائل اور مہنگائی کے خلاف ہے اور مطالبات کی منظوری تک حکومت پر دباؤ برقرار رکھا جائے گا۔ تاہم مذاکرات کے ذریعے کسی قابلِ قبول پیش رفت کی صورت میں احتجاجی صورتحال کے حوالے سے آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جاسکتا ہے۔

آج ہونے والی ملاقات کو اس حوالے سے اہم قرار دیا جا رہا ہے کہ اگر حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مطالبات پر اتفاقِ رائے پیدا ہوگیا تو احتجاجی دھرنے کے خاتمے اور معاملات کو مذاکرات کے ذریعے آگے بڑھانے کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔