یاسین ملک نے اپنے حلف نامے میں مؤقف اختیار کیا کہ ان کے خلاف کئی دہائیوں پرانے مقدمات سیاسی بنیادوں پر قائم کیے گئے ہیں اور انہیں ایک ایسے عدالتی عمل کا سامنا ہے جس سے انہیں انصاف کی توقع باقی نہیں رہی، انڈین حکومت انہیں ایک پرانے مقدمے میں پھنسا کر سخت ترین سزا دلوانے کی کوشش کر رہی ہے۔

حریت رہنما نے واضح کیا کہ اگر عدالت انہیں سزائے موت بھی سناتی ہے تو وہ اسے کشمیر کے حقِ خودارادیت کی جدوجہد کے لیے قبول کریں گے، تاہم کسی بھی عدالتی سزا کو قبول کرنے کا مطلب یہ نہیں ہوگا کہ انہوں نے اپنے خلاف عائد الزامات کو تسلیم کرلیا ہے۔ یاسین ملک نے اپنے مؤقف میں الزامات کو من گھڑت قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ عدالت کے سامنے اپنا مؤقف اور حقائق بیان کرچکے ہیں۔"

یاسین ملک نے 1990 کے سرلا بھٹ قتل کیس میں ملوث ہونے کے الزام کو بھی سختی سے مسترد کیا، سرلا بھٹ کے قتل سے تقریباً 11 روز قبل وہ خود شدید زخمی حالت میں تھے، اس لیے ان کے لیے قتل کی منصوبہ بندی یا کسی کو ہدایات دینا ممکن نہیں تھا۔

حریت رہنما نے اپنے حلف نامے میں پاک بھارت تعلقات کے حوالے سے اپنے سابقہ رابطوں کا بھی ذکر کیا، بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کے دور میں بھارتی حکام اجیت دوول، برجیش مشرا اور آر کے مشرا نے ان سے پاک بھارت تعلقات میں بہتری اور رابطہ کاری کے لیے کردار ادا کرنے کو کہا تھا۔ یاسین ملک کا دعویٰ ہے کہ بعد میں انہی رابطوں کو بھارتی تحقیقاتی اداروں نے ان کے خلاف بطور ثبوت پیش کیا۔

یاسین ملک نے الزام عائد کیا کہ بھارتی حکومت نے ان کے خلاف عدالتی کارروائیوں اور ان کی شناخت کو سیاسی مقاصد کے لیے بھی استعمال کیا۔ ان کے مطابق 2019 اور 2024 کے بھارتی انتخابات کے دوران ان کا نام، تصویر اور مقدمات کو پاکستان مخالف سیاسی بیانیے کے طور پر پیش کیا گیا تاکہ انتخابی فائدہ حاصل کیا جاسکے۔

حلف نامے میں یاسین ملک نے اپنی اہلیہ مشعال ملک اور بیٹی کے لیے بھی جذباتی پیغام دیا۔ انہوں نے طویل قید اور مستقبل میں ممکنہ سخت سزا کے خدشات کے درمیان اپنی اہلیہ کی قربانیوں اور ثابت قدمی کو سراہا اور کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ مشعال ملک ان کی قید اور مقدمات کی اذیت میں مزید زندگی گزاریں۔

یاسین ملک نے اپنی بیٹی کے لیے بھی پیغام میں کہا کہ وہ اپنی دادی کا خیال رکھے اور ان کے دکھ کو کم کرنے کی کوشش کرے، وہ اپنا مؤقف اور ضمیر کی آواز عدالت کے سامنے پیش کرچکے ہیں اور اب اپنا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کرتے ہیں۔

دوسری جانب سیاسی اور بین الاقوامی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یاسین ملک کے مقدمے اور طویل قید نے کشمیر کے سیاسی تنازع اور انسانی حقوق سے متعلق سوالات کو ایک بار پھر عالمی سطح پر اجاگر کردیا ہے، ایسے مقدمات میں شفاف عدالتی عمل اور بنیادی قانونی حقوق کی فراہمی انتہائی اہم ہے۔

یاد رہے کہ عالمی برادری اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ کشمیر سے متعلق سیاسی قیدیوں کے مقدمات اور انسانی حقوق کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے اور تمام فریقین پر زور دیا جائے کہ سیاسی اختلافات کو طاقت اور انتقامی کارروائیوں کے بجائے پرامن اور سیاسی ذرائع سے حل کرنے کی کوشش کی جائے۔