ڈپٹی کمشنر لیہ آصف علی ڈوگر نے فیتہ کاٹ کر جیپ ریلی اور ثقافتی میلے کی تقریبات کا افتتاح کیا۔ افتتاحی تقریب کے ساتھ ہی صحرائے تھل میں چار روزہ سرگرمیوں کا آغاز ہوگیا، جس میں ملک کے مختلف علاقوں سے آنے والے ریسرز، سیاحوں، مقامی شہریوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی شرکت نمایاں ہے۔

اس سال بھی تھل جیپ ریلی ایونٹ کی سب سے بڑی توجہ کا مرکز ہے۔ تقریباً 200 کلومیٹر طویل دشوار گزار صحرائی ٹریک پر 100 سے زائد ریسرز اپنی ڈرائیونگ مہارت، تجربے اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کریں گے۔ ریت کے بلند و بالا ٹیلے، نرم زمین، ناہموار راستے اور صحرائی ماحول ڈرائیورز کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہوں گے، جہاں کامیابی کے لیے صرف رفتار ہی نہیں بلکہ مہارت، حاضر دماغی اور گاڑی پر مکمل کنٹرول بھی ضروری ہوگا۔

تھل جیپ ریلی کی انفرادیت یہ ہے کہ یہاں ریسرز کو عام سڑکوں کے بجائے قدرتی صحرائی راستوں پر اپنی صلاحیتیں آزمانے کا موقع ملتا ہے۔ ریت کے بدلتے ہوئے حالات اور دشوار گزار ٹریک مقابلے کو مزید دلچسپ بناتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ برسوں کے دوران اس ایونٹ نے موٹر اسپورٹس کے شائقین میں اپنی الگ پہچان قائم کی ہے اور ملک بھر سے ریسرز کی دلچسپی میں اضافہ ہوا ہے۔

تاہم تھل جیپ ریلی کی سرگرمیاں صرف گاڑیوں کی دوڑ تک محدود نہیں۔ چار روزہ میلے میں مختلف ثقافتی اسٹالز، روایتی اشیاء، مقامی دستکاری اور علاقائی مصنوعات بھی نمائش اور فروخت کے لیے پیش کی گئی ہیں۔ ان اسٹالز کے ذریعے تھل کے روایتی رہن سہن، مقامی ہنر اور ثقافتی ورثے کو اجاگر کیا جا رہا ہے۔ شہریوں اور سیاحوں کی بڑی تعداد ان اسٹالز کا رخ کر رہی ہے، جہاں خریداری کے ساتھ انہیں علاقے کی ثقافت کو قریب سے دیکھنے اور سمجھنے کا موقع بھی مل رہا ہے۔

تھل کا ثقافتی ورثہ اپنے مخصوص لباس، روایتی دستکاری، مقامی مصنوعات اور مہمان نوازی کے باعث منفرد حیثیت رکھتا ہے۔ ایسے میلوں کے انعقاد سے نہ صرف مقامی روایات کو نئی نسل تک منتقل کرنے میں مدد ملتی ہے بلکہ علاقے کے ہنرمندوں اور دستکاروں کو بھی اپنی صلاحیتیں اور مصنوعات متعارف کرانے کا پلیٹ فارم ملتا ہے۔

میلے میں لگائے گئے اسٹالز مقامی تاجروں اور چھوٹے کاروباری افراد کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ملک کے مختلف علاقوں سے آنے والے سیاحوں کی موجودگی سے مقامی مصنوعات کی تشہیر اور فروخت کے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ اگر ایسے ایونٹس کو مستقل بنیادوں پر فروغ دیا جائے تو مقامی دستکاروں، ہنرمندوں اور چھوٹے کاروباروں کے لیے آمدن اور روزگار کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔

تھل جیپ ریلی نے لیہ کے صحرائی علاقے کو سیاحتی حوالے سے بھی نمایاں کیا ہے۔ ملک کے مختلف شہروں سے آنے والے افراد کو یہاں کے قدرتی مناظر، ریت کے بلند ٹیلوں اور منفرد صحرائی ماحول سے روشناس ہونے کا موقع ملتا ہے۔ اس سے نہ صرف لیہ بلکہ پورے جنوبی پنجاب کے سیاحتی امکانات کو اجاگر کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

چار روزہ تقریبات میں خاندانوں، بچوں، نوجوانوں اور بزرگوں کی شرکت میلے کی رونقوں میں اضافہ کر رہی ہے۔ شہریوں کے لیے یہ سرگرمیاں تفریح کے ساتھ اپنے علاقے کی ثقافت اور روایات سے جڑنے کا موقع بھی فراہم کرتی ہیں۔ جیپ ریلی کے مقابلوں کے ساتھ ثقافتی سرگرمیوں کا امتزاج اس ایونٹ کو ایک منفرد عوامی میلے کی شکل دے رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق ایسے ایونٹس کو محض سالانہ تفریحی سرگرمی تک محدود رکھنے کے بجائے باقاعدہ سیاحتی منصوبہ بندی کا حصہ بنایا جائے تو ان کے دیرپا فوائد حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ تھل کی ثقافت، مقامی دستکاری، روایتی کھانوں، زراعت، لائیو اسٹاک اور قدرتی حسن کو بھی اس میلے میں مستقل جگہ دی جاسکتی ہے۔ اس کے ساتھ سیاحوں کے لیے رہائش، آمدورفت، طبی امداد، حفاظتی انتظامات اور بنیادی سہولیات بہتر بنانا بھی ضروری ہے تاکہ مقامی آبادی اور آنے والے مہمان دونوں اس سرگرمی سے فائدہ اٹھا سکیں۔

تھل جیپ ریلی اور ثقافتی میلے کا آغاز لیہ کے لیے ایک اہم سرگرمی ہے، جہاں ایک طرف 200 کلومیٹر طویل ٹریک پر 100 سے زائد ریسرز اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کریں گے تو دوسری جانب ثقافتی اسٹالز اور روایتی سرگرمیاں علاقے کی شناخت کو نمایاں کریں گی۔ صحرائے تھل میں جاری یہ چار روزہ جشن اس حقیقت کو اجاگر کر رہا ہے کہ تھل محض ریت کے ٹیلوں پر مشتمل علاقہ نہیں بلکہ اپنی ثقافت، روایات، مہمان نوازی اور سیاحتی امکانات کے باعث ایک منفرد شناخت رکھتا ہے۔