اس معاملے پر سندھ ہائی کورٹ میں درخواست کی سماعت ہوئی۔ درخواست گزار کے وکیل جہانگیر شمس ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ پاک کالونی پولیس نے غلطی سے ان کے موکل کا شناختی کارڈ نمبر اس کے ہم نام عادی ملزم کے ریکارڈ میں درج کردیا۔

وکیل کے مطابق اس غلط اندراج کے نتیجے میں درخواست گزار کے خلاف ناقابل ضمانت وارنٹ بھی جاری ہوئے، جب کہ اس کا شناختی کارڈ بھی بلاک کردیا گیا۔ پولیس ریکارڈ کی اس غلطی کے باعث شہری کو ایک ہفتے تک حراست میں بھی رہنا پڑا۔

درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ متعلقہ پولیس حکام سے ریکارڈ کی درستگی کے لیے درخواست کی گئی، تاہم کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ شہری کا شناختی کارڈ نمبر ملزم کے مقدمات کے ریکارڈ سے الگ کیا جائے۔

سندھ ہائی کورٹ نے درخواست گزار کاشف کے نام پر درج مقدمات کا ریکارڈ طلب کرلیا، جب کہ عدالت نے مزید سماعت 15 دسمبر تک ملتوی کردی۔