نجی نشریاتی ادارے اے آر وائی نیوز کے پروگرام "الیونتھ آور" میں میزبان وسیم بادامی سے گفتگو کرتے ہوئے احسن اقبال کا کہنا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی لاٹھی بے آواز ہے، آج عمران خان جس سیل کو خوفناک اور سزائے موت کے قیدیوں کی چکی قرار دیتے ہیں، میں اسی سیل میں عمران خان کے ہی دورِ حکومت میں قید رہ چکا ہوں
احسن اقبال نے کہا کہ میں تو ملزم تھا، مگر مجھے اسی سیل میں رکھا گیا جہاں آج عمران خان ایک مجرم کے طور پر موجود ہیں۔ جب ان سے سیل کی تفصیلات پوچھی گئیں تو احسن اقبال نے بتایا کہ یہ ایک لمبا سا سیل ہے، جس کے اندر ہی واش روم موجود ہوتا ہے۔ سیل میں ایک چارپائی رکھی ہوتی ہے، سامنے ایک چھوٹا سا برآمدہ ہے جہاں کچھ واک کی جا سکتی ہے۔
آج خان صاحب جس سیل میں قید ہیں یہ Exactly وہی سیل ہے جہاں انہوں نے مجھے قید کر رکھاُتھا
— Waseem Badami (@WaseemBadami) October 21, 2025
وفاقی وزیر احسن اقبال#11thHour pic.twitter.com/yZhJB4GIkJ
وسیم بادامی نے پوچھا کہ کیا یہ فائیو اسٹار جیل جیسی سہولتوں والا سیل ہے؟ اس پر احسن اقبال نے مسکراتے ہوئے جواب دیاکہ سیل کی جو تصاویر اب سامنے آرہی ہیں، ان میں کولر اور دیگر سہولتیں نظر آتی ہیں، مگر مجھے ان میں سے کوئی سہولت میسر نہیں تھی۔ میں شدید سردی میں رہا، میرے پاس ایک گھڑی تھی جو درجہ حرارت بتاتی تھی، رات کے وقت درجہ حرارت پانچ ڈگری تک گر جاتا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کے دور میں ٹی وی کی سہولت بھی موجود نہیں تھی، مگر اطلاعات کے مطابق عمران خان کے سیل میں ٹی وی موجود ہے۔
احسن اقبال نے کہا کہ تاریخ نے پلٹا کھایا ہے، جس سیل میں مجھے جھوٹے الزامات پر بند کیا گیا تھا، آج وہی سیل ان کے اپنے اعمال کا گواہ بن چکا ہے۔







