الیکشن کمیشن میں پیشی کے دوران حذیفہ رحمان نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ ایک میوزیکل کنسرٹ میں شریک ہوئے تھے لیکن انتخابی مہم کا حصہ نہیں بنے۔ ان کا کہنا تھا کہ متعلقہ امیدوار سے ان کے سیاسی اختلافات ہیں اور اس لیے مہم میں حصہ لینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

انہوں  نے کہا کہ وہ الیکشن کمیشن کے احترام میں خود پیش ہوئے ہیں کیونکہ وہ نہیں چاہتے کہ آئین و قانون کی خلاف ورزی ہو۔

الیکشن کمیشن نے وزیر مملکت کو تحریری جواب جمع کرانے کی ہدایت کر دی۔

مزید پڑھیں: گلگت بلتستان اسمبلی مدت مکمل کر کے آج رات تحلیل ہو جائے گی


دوسری جانب وزیرِ مملکت داخلہ طلال چوہدری کے وکیل نے کمیشن سے استدعا کی کہ آج نوٹس ملا ہے، اس لیے پہلے وکالت نامہ جمع کرانے کی اجازت دی جائے۔

چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ آج طلال چوہدری کو حاضری سے استثنیٰ دیا جاتا ہے لیکن آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں پیش ہونا لازمی ہوگا۔ چیف الیکشن کمشنر نے مزید کہا کہ فی الحال طلال چوہدری کو نااہل نہیں کرتے تاہم آئندہ پیشی تک کامیاب امیدوار کا نوٹیفکیشن جاری نہ کیا جائے۔

واضع رہے کہ الیکشن کمیشن نے کیس کی مزید سماعت 2 دسمبر تک ملتوی کر دی۔