سنیچر کو ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکہ نے 22 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا، جس میں قرار دیا گیا کہ استغاثہ ملزمان کے خلاف الزامات ثابت کرنے میں کامیاب رہا۔
عدالتی کارروائی کے مطابق فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی کے سب انسپکٹر نے سوشل میڈیا مانیٹرنگ کے دوران ایمان مزاری کے ایکس اکاؤنٹ پر ریاست مخالف، اشتعال انگیز اور گمراہ کن مواد کی نشاندہی کی۔
عدالت کے مطابق ایمان مزاری پر نسلی منافرت کو ہوا دینے، سرکاری اداروں پر عوامی اعتماد کو ٹھیس پہنچانے اور مسلح افواج کے خلاف منفی پروپیگنڈا کرنے کا الزام ثابت ہوا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ مختلف تاریخوں پر کی گئی ٹویٹس کالعدم تنظیموں بی ایل اے اور ٹی ٹی پی کے ایجنڈے کی عکاسی کرتی تھیں، جبکہ ہادی علی چٹھہ ان سرگرمیوں میں معاون کے طور پر شامل تھے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق دونوں ملزمان پر مجموعی طور پر تین کروڑ 60 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔
تحریری فیصلے میں بتایا گیا کہ پیکا ایکٹ کے سیکشن 9 کے تحت پانچ، پانچ برس قید اور 50 لاکھ روپے جرمانہ، سیکشن 10 کے تحت 10، 10 برس قید اور تین کروڑ روپے جرمانہ، جبکہ سیکشن 26 اے کے تحت دو، دو برس قید اور 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی۔
عدالت نے پیکا ایکٹ کے سیکشن 11 کے تحت دونوں ملزمان کو بری کر دیا، جبکہ جرمانے کی عدم ادائیگی کی صورت میں مزید قید کا حکم بھی دیا گیا ہے۔
چونکہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ پہلے ہی ایک دوسرے مقدمے میں اڈیالہ جیل میں قید ہیں، اس لیے عدالت نے انہیں وہیں رہ کر ان سزاؤں کو پورا کرنے کی ہدایت کی ہے۔
خیال رہے کہ جمعے کے روز دونوں کو ’متنازع ٹویٹس‘ کے مقدمے میں پیشی کے لیے عدالت جاتے ہوئے گرفتار کیا گیا تھا۔
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ گرفتاری سے بچنے کے لیے تین دن تک اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے میں موجود رہے تھے۔
پولیس نے دونوں کو سرینا ہوٹل کے قریب انڈر پاس سے اس وقت حراست میں لیا جب وہ ہائی کورٹ بار کے عہدیداران اور وکلا کے ہمراہ ڈسٹرکٹ کورٹس جا رہے تھے۔







