یونیورسٹی نے واضح کیا ہے کہ اس کے تمام کیمپس صرف برطانیہ میں واقع ہیں اور بیرونِ ملک کسی کیمپس کے قیام کا کوئی منصوبہ موجود نہیں۔

18 اکتوبر کو مسلم لیگ (ن) نے اپنے آفیشل ایکس اکاؤنٹ پر اعلان کیا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیرِ صدارت اجلاس میں امپیریل کالج لندن کا کیمپس نواز شریف آئی ٹی سٹی میں قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس کی سنگِ بنیاد کی تقریب نومبر میں منعقد ہوگی۔

اس اعلان میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ کیمپس میں 300 بستروں پر مشتمل ایک جدید اسپتال بھی تعمیر کیا جائے گا۔

اسی طرح پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے بھی اپنے ایکس اکاؤنٹ پر یہی دعویٰ کیا، جبکہ پنجاب حکومت کے سرکاری اکاؤنٹ نے بھی اس بیان کی تصدیق کی۔

تاہم، امپیریل کالج لندن نے پیر کے روز اپنی آفیشل ویب سائٹ پر جاری بیان میں ان تمام دعوؤں کو غلط قرار دیا۔ ادارے نے کہا کہ میڈیا اور آن لائن ذرائع میں گردش کرنے والی یہ خبریں درست نہیں کہ امپیریل کالج لاہور میں کوئی نیا کیمپس قائم کر رہا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ یونیورسٹی کے تمام کیمپس صرف برطانیہ میں ہیں اور بیرونِ ملک کسی توسیع کا منصوبہ زیرِ غور نہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ جو افراد امپیریل کالج کی بین الاقوامی سرگرمیوں کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں، وہ ادارے کے انٹرنیشنل ریلیشنز آفس کی ویب سائٹ ملاحظہ کریں۔

دوسری جانب امپیریل کالج لندن کے سابق طالبعلم اور نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن (NAVTTC)

کے سابق چیئرمین جاوید حسن نے اس دعوے پر حیرت کا اظہار کیا۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ انہیں کچھ دیر کے لیے لگا کہ امپیریل واقعی اتنا مہم جو ادارہ بن گیا ہے، لیکن بعد میں پتا چلا کہ اس کے تمام منصوبے برطانیہ تک محدود ہیں۔

واضح رہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے گزشتہ سال مئی میں نواز شریف آئی ٹی سٹی کے کمرشل آغاز کی تقریب میں کہا تھا کہ کئی بین الاقوامی ٹیکنالوجی کمپنیاں اس منصوبے میں دلچسپی لے رہی ہیں، جن میں سے 10 کمپنیاں پہلے ہی اپنے دفاتر قائم کرنے کی منصوبہ بندی کر چکی ہیں۔

یہ آئی ٹی سٹی 853 ایکڑ رقبے پر پھیلا ہوا ہے اور اسے 10 سال کے لیے ٹیکس فری زون قرار دیا گیا ہے۔