میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسد قیصر کا کہنا تھا کہ موجودہ قومی اسمبلی کے پاس قانون سازی کا کوئی اخلاقی یا آئینی اختیار نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ “کیا قانون میں ترمیم ایسے ہوتی ہے؟ ایک بار ترمیم کرکے پھر دوبارہ کہنا کہ یہ ایسے نہیں ویسے ہونا چاہیے” — یہ سارا عمل آئینی مذاق کے مترادف ہے۔
انہوں نے کہا کہ نواز شریف ووٹ کو عزت دینے کی بات تو کرتے ہیں، مگر اجلاسوں میں شاذ و نادر ہی نظر آتے ہیں، لیکن کل اچانک ایوان میں پہنچ گئے۔
پی ٹی آئی رہنما نے جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ کے استعفوں کو اصولی مؤقف قرار دیتے ہوئے انہیں خراجِ تحسین پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وکلا تنظیموں اور مزدور یونینز کو بھی ان ججز کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔
مزیدپڑھیں: جس آئین کی پاسداری کا میں نے حلف اٹھایا تھا وہ اب باقی نہیں رہا، اُس آئین کی روح کو دفن کر دیا گیا ہے، جسٹس اطہر من اللہ
انہوں نے بتایا کہ پی ٹی آئی کا اہم اجلاس منعقد ہوگا جس میں آئندہ کے لائحہ عمل کا فیصلہ کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ 27 ویں آئینی ترمیم دو تہائی اکثریت سے منظور کر چکے ہیں، تاہم ترمیم کی منظوری کے دوران اپوزیشن نے شدید احتجاج اور نعرے بازی بھی کی۔







