پاکستان تحریک انصاف دیگر اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ ’تحریک تحفظ آئین پاکستان‘ کے پلیٹ فارم سے احتجاج کر رہی ہے۔ جمعرات کو قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے عمران خان سے ملاقاتوں پر عائد پابندی ختم کرنے اور انہیں اسپتال منتقل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے پارلیمنٹ کے باہر احتجاج کی کال دی تھی اور اپوزیشن اراکین کو شرکت کی دعوت دی تھی۔

احتجاج کی کال کے بعد اسلام آباد پولیس نے ریڈ زون میں واقع پارلیمنٹ لاجز، خیبرپختونخوا ہاؤس اور پارلیمنٹ ہاؤس کے اطراف سکیورٹی سخت کرتے ہوئے پارلیمنٹرینز کی نقل و حرکت محدود کر دی۔ اطلاعات کے مطابق ان مقامات کو بند کر کے اراکین کو پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے پہنچنے سے روکا گیا۔

اس اقدام کے بعد پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے پارلیمنٹ لاجز، خیبرپختونخوا ہاؤس اور پارلیمنٹ ہاؤس کے اندر ہی دھرنا دے دیا۔ ’تحریک تحفظ آئین پاکستان‘ کے ترجمان اخونزادہ حسین احمد یوسفزئی کا کہنا ہے کہ 40 سے 50 افراد پارلیمنٹ ہاؤس میں موجود ہیں اور انہیں خوراک اور ادویات کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج گزشتہ 24 گھنٹوں سے جاری ہے اور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ عمران خان کو فوری طور پر الشفاء آئی ہسپتال منتقل کیا جائے۔ ان کے مطابق پولیس نے کھانے پینے کی اشیا کی ترسیل روک رکھی ہے اور خیبرپختونخوا ہاؤس سے بھیجی گئی اشیا کو بھی اندر آنے نہیں دیا گیا۔

دوسری جانب سنیچر کو اپوزیشن رہنما مصطفیٰ نواز کھوکھر کھانا اور پانی لے کر پارلیمنٹ پہنچے، تاہم انہیں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر انہیں اندر جانے کی اجازت نہیں بھی دی جاتی تو کوئی بات نہیں، لیکن کھانے اور پانی کی ترسیل روکنا مناسب اقدام نہیں۔

ریڈ زون میں سکیورٹی انتظامات سخت ہیں جبکہ اپوزیشن جماعتیں اپنے مطالبات پر بدستور قائم ہیں۔